قال الإمام الحسين سید الشہداء علیہ السلام:
محمد طیب علی انصاری قمی
1۔ اللہ اور سب کچھ:
"الھی مَاذَا وَجَدَ مَنْ فَقَدَكَ؟ وَ مَا الّذِى فَقَدَ مَنْ وَجَدَكَ؟"۔
( دعائے عرفہ۔ بحار الانوار، ج95، ص226)
خدایا! جس نے تجھے کھویا اس نے کیا پایا؟ اور جس نے تجھے پایا اس نے کیا کھویا؟
2۔ اتباع حق:
"لا يَكْمُلُ الْعَقْلُ إِلا بِاتّبَاعِ الْحَقّ"۔
(اعلام الدین، ص298)
حق کی اتباع کے بغیر عقل کامل نہیں ہوتی۔
3۔ خدا کی معرفت:
"اَيُّهَا النّاسُ! اِنَّ اللّه َ جَلَّ ذِكْرُهُ ماخَلَقَ الْعِبادَ اِلاّ لِيَعْرِفُوهُ، فَاِذا عَرَفُوهُ عَبَدُوهُ، فَإذا عَبَدُوهُ اسْتَغْنُوا بِعِبادَتِهِ عَنْ عِبادَةِ ماسِواهُ"۔
(علل الشرايع، ص9)
بندوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لئے تاکہ وہ اسے پہچانیں، جب لوگ اسے پہچانیں گے تو اسکی عبادت کریں گے،اور جب اسکی عبادت کریں گے تو اسکے غیر کی پرستش سے بے نیاز ہوجائیں گے۔
4۔ اللّٰہ کی رحمت:
"بُكَاءُ الْعُيُونِ وَ خَشْيَةُ الْقُلُوبِ رَحْمَةٌ مِنَ اللّهِ"۔
(مستدرك الوسائل، ج۱۱، ص۲۴۵، ح۳۵)
خوف الہی میں آنکھوں کا گریہ کرنا اور دلوں پر لرزہ طاری ہونا اللّٰہ کی رحمت ہے۔
5۔ نجات کا ذریعہ:
"اَلبُكَاءُ مِنْ خَشْيَةِ اللّهِ نَجَاةٌ مِنَ النّارِ"۔
(مستدرک الوسائل، ج11، ص245)
خوف خدا میں گریہ و زاری کرنا دوزخ سے نجات کا ذریعہ ہے۔
6۔ جو عبادت کا حق ادا کرے:
"مَنْ عَبَدَ اللّهَ حَقّ عِبَادَتِهِ آتاهُ اللّهُ فَوْقَ اَمَانِيهِ وَ كِفَايَتِهِ"۔
(بحار الانوار، ج68، ص184)
جو اللہ کی عبادت اسطرح کرے جسطرح عبادت کا حق ہے تو الل٘ہ اسے اسکی سوچ اور ضرورت سے زیادہ عطا کرےگا۔
7۔ نماز سے محبت:
"فَهُوَ يَعْلَمُ اَنِّى قَدْ كُنْتُ اُحِبُّ الصَّلاةَ لَهُ وَتِلاوَةَ كِتابِهِ وَكَثْرَةَ الدُّعاءِ وَالاِسْتِغْفارِ"۔
(موسوعة كلمات الامام الحسين ع، حديث392، ح379)
پس خدا بخوبی جانتا ہے کہ میں اسکے لئے نماز، تلاوتِ قرآن، کثرت سے دعا کرنے اور استغفار کو کتنا پسند کرتا ہوں۔
8۔ عمل صرف اللّٰہ کے لئے:
"مَنْ طَلَبَ رِضَى النّاسِ بِسَخَطِ اللّهِ وَكَلَهُ اللّهُ إِلىَ النّاسِ"۔
(بحار الانوار، ج75، ص126)
جو شخص اللہ تعالی کو ناراض کر کے لوگوں کو خوش کرنا چاہے تو اللہ اسکو لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیتا ہے۔
9۔ ناکام قوم:
"لا اَفْلَحَ قَوْمِ اشْتَرَوْا مَرْضاةَ الْمَخْلُوقِ بِسَـخَطِ الْخـالِقِ”۔
(مقتل خوارزمی239/1)
وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جو مخلوق کی رضا کی خاطر خالق کے غضب کو خرید لے۔
10۔ ہم اہلبیت علیہم السلام:
"نَحْنُ حِزْبُ اللّه ِ الْغالِبُونَ، وَعِتْرَةُ رَسُولِ اللّهِ الاَْقْرَبُونَ، وَاَهْلُ بَيْتِهِ الطَّيِّبُونَ، وَ أَحَدُالثَّقَلَيْنِ الَّذينَ جَعَلَنا رَسُولُ اللّهِ ثانِىَ كِتابِ اللّه"۔
(احتجاج طبرسى، 229)
ہم غالب آنے والے خدا کی فوج، رسول اللّٰہ کے نزدیکترین عترت ہیں اور ہم ثقلین میں سے ایک ہیں کہ جسے رسول اللّٰہ نے قرار دیا، دوسری اللّٰہ کی کتاب قرآن ہے۔
11۔ ہماری اطاعت:
"وَ اللّهِ مَا خَلَقَ اللّهُ شَيْئاً إِلا وَ قَدْ اَمَرَهُ بِالطّاعَةِ لَنَا"۔
(بحار الانوار، ج44، ص181، ح1)
اللہ کی قسم اللّٰہ نے کسی مخلوق کو خلق نہیں فرمایا مگر یہ کہ اسکو ہماری(اہلبیتؑ) اطاعت کا حکم دے دیا۔
12۔ محبّ اہلبیت ع:
"مَنْ اَحَبّنَا كَانَ مِنّا اَهْلَ الْبَيتِ"۔
(نزهة النّاظر و تنبيه الخاطر، ص۸۵، ح۱۹)
جو شخص ہم سے محبت کرتا ہے وہ ہم اہلبیت(ع) میں سے ہے۔
13۔ اہلبیت علیہم السلام کے محِب:
"مَنْ أحَبَّنا لايُحِبُّنا إلاّ لِلّهِ، جِئْنا نَحْنُ وَهُوَ كَهاتَيْنِ"۔
(محاسن البرقى، ج1، ص134)
جو کوئی بھی ہم اہلبیت سے صرف اللّٰہ کی خاطر محبت کرے گا تو وہ اور ہم قیامت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔
14۔ ہم اہلبیت علیہم السلام کی محبت:
"إِنّ حُبّنَا لَتُسَاقِطُ الذّنُوبَ كَمَا تُسَاقِطُ الرّيحُ الْوَرَقَ"۔
(بحار الأنوار، ج٤٤، ص٢٤)
بتحقیق ہماری محبت گناہوں کو ایسے جھاڑ دیتی ہے جسطرح ہوا پتوں کو جھاڑ دیتی ہے۔
15۔ ہمارے شیعہ:
"إِنّ شِيعَتَنَا مَنْ سَلِمَتْ قُلُوبُهمْ مِنْ كُلّ غِشّ وَغَلّ وَدَغَلٍ"۔
( بحار الانوار، ج65، ص156)
بے شک وہ لوگ ہمارے شیعہ ہیں جن کے دل خیانت، دھوکہ اور مکر و فریب سے پاک ہو۔
16۔ کریم لوگ:
"إِنّ الْكَريِمَ إِذَا تَكَلّمَ بِكَلاَمٍ، يَنْبَغِى اَنْ يُصَدّقَهُ بِالْفِعْلِ"۔
(مستدرک الوسائل، ج7، ص193)
بیشک عزت دار لوگ وہ ہیں کہ جب کوئی بات کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ وہ اپنے عمل سے اسکی تصدیق کرے۔
17۔ سلام کا ثواب:
"لِلسَّلامِ سَبْـعُونَ حَسَنَةً تِسْعٌ وَسِتُّونَ لِلْمُبْتَدِى وَ وَاحِدَةٌ لِلرّادِّ"۔
(تحف العقول، 177)
سلام کا ثواب ستر ہے، انہتًر ثواب سلام میں پہل کرنے والے اور ایک ثواب جواب دینے والے کےلئےہے۔
18۔ عاجز اور کنجوسترین انسان:
"اَعْجَزُ النّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الدُّعاءِ، وَ اَبْخَلُ النّاسِ مَنْ بَخِلَ بالسَّلامِ"۔
(موسوعه كلمات الامام الحسين ع حدیث781، ح971)
لوگوں عاجز ترین انسان وہ ہر جو دعا نہ مانگ سکے اور کنجوسترین انسان وہ ہے کہ جو سلام کرنے میں کنجوسی کرے۔
19۔ حصول علم:
"دِراسَةُ الْعِلْمِ لِقاحُ الْمَعْرِفَةِ"۔
(بحار الانوار، ج75، ص128)
علم حاصل کرنا معرفت کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
20۔ عبادت اور زینت:
"الْخُلْقُ الْحَسَنُ عِبَادَةٌ وَ الصَّمْتُ زَيْنٌ"۔
(تاریخ یعقوبی، ج2، ص264)
اچھا اخلاق عبادت ہے اور خاموشی زینت۔
21۔ مومن کی مشکل کشائی کرنا:
"مَنْ نَفّسَ كُرْبَةَ مُؤْمِنٍ فَرّجَ اللّهُ عَنْهُ كُرَبَ الدّنيَا وَ الاخِرَةِ"۔
(بحار الانوار، ج75، ص122)
جو شخص ايک مومن کو پریشانی سے نکالے تو اللّه اس سے دنيا وآخرت کی پريشانيوں کو دور کردےگا۔
22۔ عطا کو قبول:
"مَنْ قَبِلَ عَطَاءَكَ، فَقَدْ اَعَانَكَ عَلَى الْكَرَمِ"۔
(الدّرة الباهرة، 24)
جس نے تمہاری عطا کو قبول کیا گویا اس نے کرم کرنے میں تمہاری مدد کی۔
23۔ فقر، مرض اور موت:
"لَوْلا ثَلاثَةٌ مَا وَضَعَ ابْنُ آدَمَ رَأْسَهُ لِشَىْءٍ: اَلْفَقْرُ وَالْمَرَضُ وَالْمَوْتُ"۔
(نزهة الناظر، ص80)
اگر تین چیزیں نا ہوتیں تو کبھی بھی انسان کسی چیز کے سامنے سر نا جھکاتا، غربت، بیماری اور موت۔
24۔ زبان:
"لاتَقُولُوا بِاَلْسِنَتِكُمْ مَا يَنْقُصُ عَنْ قَدْرِكُمْ"
(جلاء العيون، ج۲، ص۲۰۵)
اپنی زبان سے ایسی بات نہ کرو جو تمہاری قدر و منزلت کو کم کر دے۔
25۔ غیبت:
"کَفَّ عَنِ الْغِیبَةِ فَاِنَّها إدَامُ کِلابِ النَّارِ"۔
(تحف العقول، ص245)
غیبت سے اجتناب کرو کیونکہ یہ جہنم کے کتوں کی غذا ہے۔
26۔ لباس:
"مَنْ لَبِسَ ثَوْباً يُشْهِرُهُ كَساهُ اللّهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ ثَوْباً مِنَ النّارِ”
(فروع كافى، ج6، ص445)
جو کوئی بھی لباس پہنتا ہے کہ اسے شہرت ملے تو خداوند اسے قیامت میں آگ سے بنا لباس پہنائے گا۔
27۔ برائی سے روکنا:
"لا يَنْبَغِى لِنَفْسٍ مُؤْمِنَةٍ تَرَى مَنْ يَعْصِى اللّهَ فَلا تُنْكِرُ عَلَيْهِ"۔
(كنز العمّال، ج۳، ص۸۵، ح۵۶۱۴)
کسی صاحب ایمان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کسی کو معصیت خدا میں مبتلا دیکھے اور اسے منع نہ کرے۔
28۔ آرزوئیں دیر سے پوری ہوتی ہیں:
"مَنْ حَاوَلَ اَمْراً بِمَعْصِيَةِ اللّهِ كَانَ اَفْوَتَ لِمَا يَرْجُوا وَ اَسْرَعَ لِمَا يَحْذَرُ"۔
(بحار الانوار، ج۷۵، ص۱۲، ح۱۹)
جوشخص گناھوں کے ذریعہ اپنے مقصد تک پہنچنا چاہتا ہے، اس کی آرزوئیں بہت دیر سے پوری ہوتی ہیں، اور جس چیز سے ڈرتا ہے سب سے پہلے اسی میں گرفتار ہوجاتا ہے۔
29۔ استغفار:
"لِکُلِّ داءٍ دَواءٌ، وَ دَواءُ الذُّنُوبِ الإسْتِغْفارِ"۔
(وسائل الشیعہ، ج16، ص65)
ہر مرض کی ایک دوا ہے اور گناہوں کی دوا استغفار ہے۔
30۔ سب سے زیادہ معاف کرنے والا:
"اِنّ اَعْفَىٰ النّاسِ مَنْ عَفَا عَنْ قُدْرَتِہِ"۔
(بحار الانوار، ج75، ص121)
بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ معاف کرنے والا وہ شخص ہے جو(انتقام) کی قدرت رکھتے ہوئے معاف کرے۔
31۔ ایسا نہ بننا:
"اِيّاكَ أنْ تكونَ مِمَّن يَخافُ علىٰ العِبادِ مِن ذُنوبِهِم و يَأْمَنُ العُقوبَةَ مِن ذَنبِهِ"۔
(تحف العقول، 273)
خبردار اس شخص کی طرح مت بننا جسے دوسروں کے گناہوں کی فکر ہے جب کہ اپنے گناہوں کے عذاب سے غافل ہے۔
32۔ علی نام:
"لَوْ وُلِـدَ لِى مِـأَةٌ لاََحْبَبْتُ اَنْ لا اُسَمِّىَ اَحَداً مِنْهُمْ اِلاّ عَلِيّاً"۔
(روضة المتقين، ج8، ص625)
اگر میرے یہاں سو بچے متولد ہوں تو میں ان سبھوں کا نام علی رکھنا پسند کروں گا۔
33۔ بیعت:
"مِثْلى لايُبايِعُ لِمِثْلِهِ"۔
(فتوح ابن اعثم ج5، ص14)
مجھ (حسین ؑ) جیسا تجھ (یزید) جیسے کی بیعت کبھی نہیں کر سکتا۔
34۔ امت کی اصلاح کی خاطر:
"وَ إنَّما خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِی أُمَّةِ جَدِّیقا أُريدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَسيرَ بِسيرَةِ جَدّى وَ أَبیٰ عَلىِ بن أَبىطالِبٍ"۔
(مقتل مقرم، 139۔ بحار الانوار، ج44، ص329)
میں صرف و اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں، میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں اور میں اپنے نانا اور بابا علی ابن ابی طالب(ع) کی سیرت پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔
35۔ عزت کی موت:
"مَوتٌ فِي عِزٍّ خَيرٌ مِن حَیاةٍ فِي ذُلٍّ"۔
(المناقب لابن شہرآشوب، 4/68)
ذلّت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔
36۔ کشتہ اشک:
"أنَا قَتيلُ العَبَرَةِ لايَذكُرُنِي مُؤمِنٌ إلاّ استَعبَرَ"۔
(بحارالأنوار، ج44، ص284)
میں آنسوں کا مقتول ہوں، کوئی بھی مومن مجھے یاد نہیں کرےگا مگر یہ کہ (اسکی آنکھیں اشک بار ہو جائیں) وہ رو پڑے۔
37۔ آنسو کا ایک قطرہ:
"مَنْ دَمَعَتْ عَيْناهُ فينا دَمْعَةً بِقَطْرَةٍ اَعْطاهُ اللّهُ تَعالى الْجَـنَّةَ"۔
(ینابيع المودة، ص228)
جس کسی بھی مؤمن کی آنکھیں ہماری خاطر اس قدر روئے کہ آنسو نکل پڑے تو اللّہ اسے جنت عطا کرے گا۔
38۔ سلامتی جسم:
"بَادِرُوا بِصِحَّةِ الأجسامِ في مُدَّةِ الأعمارِ"۔
(تحف العقول، ص239)
اپنی زندگی کے دوران جسم کو سالم رکھنے کی کوشش کرو۔
39۔ آرزو شہادت:
"ألاَ تَرَونَ أنَّ الحَقَّ لا يُعمَلُ بهِ، و أنَّ الباطِلَ لايُتَناهِى عَنهُ، لِيَرغَبِ المُؤمنُ في لِقاءِ اللّهِ مُحِقاً"۔
(تحف العقول، 245)
کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے نہیں روکا جا رہا ایسے میں ایک مومن کو خدا سے ملاقات کی آرزو کرنی چاہیے۔
40۔ علاماتِ ظہور امام مہدی عج:
"لِلْمَهْدى خَمْسُ عَلاماتٍ: اَلسُّفْيانى وَالَْيمانى وَالصَّيْحَةُ مِنَ السَّماءِ وَالْخَسْفُ بِالْبَيْداءِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الزَّكِيَّةِ"۔
(متخب الأثر، ص458)
امام مہدی کے ظہور کی پانچ نشانیاں ہیں:
سفیانی اور مرد یمانی کا خروج، آسمان سے ایک زور دار آواز کا آنا، بیداء کے مقام پر زمین کا دھنس جانا اور نفس زکیہ کا قتل ہونا۔








