4 محرم الحرام 61 ہجری کو عبیداللہ بن زیاد ملعون نے اہلِ کوفہ کو مسجد میں جمع کرکے ایک اہم خطاب کیا۔ اس نے اپنی تقریر میں لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کے خلاف جنگ میں شرکت پر آمادہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہیں مختلف ترغیبات دیں۔ اس کے نتیجے میں تیرہ ہزار افراد پر مشتمل چار بڑے فوجی دستے عمر بن سعد کے لشکر میں شامل ہوئے:
1۔ شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ؛
2۔ یزید بن رکاب کلبی دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ؛
3۔ حصین بن نمیر چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ؛
4۔ مضایر بن رہینہ مازنی تین ہزار سپاہیوں کے ساتھ۔
(بحار الانوار، ج 44، ص 386)
یہ فوجی دستے چوتھی محرم سے لے کر روزِ عاشورا تک مسلسل عمر بن سعد کے لشکر میں شامل ہوتے رہے، جس کے نتیجے میں لشکرِ یزید کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا جبکہ امام حسین علیہ السلام اپنے مختصر مگر باوفا قافلے کے ساتھ حق و صداقت کا پرچم بلند کئے ہوئے تھے۔
عمر بن سعد کا عبیداللہ بن زیاد کے نام خط
اسی روز عمر بن سعد نے عبیداللہ بن زیاد کو ایک خط لکھا، جس میں اس نے تحریر کیا: "کربلا پہنچنے کے بعد میں نے ایک قاصد امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا تاکہ ان سے گفتگو کرے اور دریافت کرے کہ آپ کس مقصد سے یہاں تشریف لائے ہیں؟ امام علیہ السلام نے جواب دیا کہ اہلِ کوفہ نے مجھے خطوط لکھ کر بلایا تھا، لہٰذا میں ان کی دعوت پر آیا ہوں۔ اگر اب ان کی رائے بدل گئی ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔”
حسان بن فائد بن بکیر العبسی کا بیان ہے: "جب عمر بن سعد کا خط عبیداللہ بن زیاد کے پاس پہنچا تو میں بھی اس کے پاس موجود تھا۔ اس نے خط پڑھا اور یہ شعر پڑھا:
اَلآنَ إِذْ عَلِقَتْ مَخَالِبُنَا بِهِ
يَرْجُو النَّجَاةَ وَلَاتَ حِينَ مَنَاصِ
”اب جبکہ ہمارے پنجے اس کے گلے تک پہنچ چکے ہیں، وہ نجات کی امید رکھتا ہے، حالانکہ اب فرار یا بچ نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔”
اس کے بعد عبیداللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو جواب لکھا: "تمہارا خط موصول ہوا اور اس کا مضمون سمجھ لیا گیا۔ میرا یہ حکم ملتے ہی حسینؑ اور ان کے ساتھیوں سے یزید بن معاویہ کے لئے بیعت لو، پھر ہم غور کریں گے کہ ان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جائے۔”
بعض مقاتل میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس نے لکھا: "اگر وہ بیعت سے انکار کریں تو ان کا اور ان کے اصحاب کا سر قلم کرکے میرے پاس بھیج دو۔”
جب عمر بن سعد کو یہ جواب ملا تو اس نے کہا: "مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ عبیداللہ صلح، سلامتی اور عافیت کی کسی تجویز کو قبول نہیں کرے گا۔”
امام حسین علیہ السلام اور عمر بن سعد کی ملاقات
اسی دوران امام حسین علیہ السلام نے عمر بن سعد کے پاس ایک قاصد روانہ کیا اور پیغام بھیجا: "میں چاہتا ہوں کہ رات کے وقت دونوں لشکروں کے درمیان کسی مقام پر ہماری ملاقات ہو۔”
رات کی تاریکی میں دونوں کی ملاقات ہوئی۔ امام حسین علیہ السلام نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا: "وَیل ہو تم پر اے عمر بن سعد! کیا تم اس خدا سے نہیں ڈرتے جس کی بارگاہ میں تمہیں واپس جانا ہے؟”
عمر بن سعد نے جواب دیا: "اگر میں اس لشکر سے الگ ہو جاؤں تو مجھے اندیشہ ہے کہ میرا گھر گرا دیا جائے گا۔”
امام علیہ السلام نے فرمایا: "میں تمہارے لئے تمہارا گھر دوبارہ تعمیر کرا دوں گا۔”
عمر بن سعد نے پھر اپنے مال و جائیداد اور دیگر دنیاوی مفادات کے بارے میں خدشات ظاہر کئے، لیکن امام حسین علیہ السلام مسلسل اسے حق، ہدایت اور نجات کی طرف دعوت دیتے رہے۔
بالآخر امام علیہ السلام نے فرمایا: "تمہیں کیا ہو گیا ہے! خدا کی قسم! بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہاری جان تمہارے بستر پر ہی قبض کر لے گا اور قیامت کے دن تمہیں اپنی رحمت سے محروم رکھے گا۔ خدا کی قسم! مجھے امید ہے کہ تم عراق کے گندم میں سے بھی بہت کم کھا سکو گے۔”(عاشورا؛ ریشهها، انگیزهها، رویدادها، پیامدها، ص 341)
تاریخ گواہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی یہ پیشنگوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی اور عمر بن سعد اپنے انجامِ بد کو پہنچا۔
مذکورہ واقعات سے حاصل ہونے والے اہم پیغامات
1۔ حق کی قوت دلیل اور بصیرت میں ہے، تعداد میں نہیں: عبیداللہ بن زیاد نے ہزاروں افراد کو جمع کرکے طاقت اور کثرتِ تعداد کے ذریعہ امام حسین علیہ السلام کا راستہ روکنے کی کوشش کی، لیکن امامؑ حق، صداقت اور الٰہی حجت کے ساتھ میدان میں موجود تھے۔ واقعۂ کربلا یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ حق کی کامیابی کا معیار ظاہری طاقت نہیں بلکہ سچائی، اخلاص اور اصولوں پر ثابت قدمی ہے۔
2۔ دنیا طلبی انسان کو حق شناسی سے محروم کر دیتی ہے: عمر بن سعد امام حسین علیہ السلام کی حقانیت سے آگاہ تھا، لیکن حکومتِ رَی، مال و دولت اور دنیاوی مفادات کی خواہش نے اسے حق کا ساتھ دینے سے محروم رکھا۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ دنیا کی محبت انسان کی بصیرت کو سلب کر سکتی ہے۔
3۔ امام حسین علیہ السلام نے آخری لمحے تک ہدایت و اصلاح کی کوشش جاری رکھی: عمر بن سعد سے ملاقات اور خیرخواہانہ گفتگو اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام جنگ اور خونریزی نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور انسانوں کی ہدایت چاہتے تھے۔ آپؑ نے دشمنوں کے لئے بھی توبہ اور واپسی کا دروازہ بند نہیں ہونے دیا۔
4۔ ظلم کی بنیاد خوف، لالچ اور مفاد پرستی پر قائم ہوتی ہے: کوفہ کے بہت سے لوگ حق کو پہچاننے کے باوجود خوف، لالچ یا دنیاوی مفادات کی وجہ سے لشکرِ باطل میں شامل ہوئے۔ یہ تاریخ کا دائمی سبق ہے کہ جب معاشرے میں مفاد پرستی اور بزدلی غالب آ جائے تو حق تنہا اور مظلوم نظر آنے لگتا ہے۔
5۔ اہلِ حق کی پہچان استقامت اور وفاداری ہے: لشکرِ یزید کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی، لیکن امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے باوفا اصحاب اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔ یہی استقامت، وفاداری اور قربانی کربلا کی روح اور اہلِ ایمان کے لئے نمونۂ عمل ہے۔
6۔ اولیائے الٰہی کی بصیرت اور پیشنگوئیاں حق پر مبنی ہوتی ہیں: امام حسین علیہ السلام نے عمر بن سعد کے انجام کے بارے میں جو فرمایا، تاریخ نے اس کی صداقت کو ثابت کر دیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اولیائے الٰہی محض ظاہری حالات کو نہیں دیکھتے بلکہ الٰہی نورِ بصیرت کے ذریعہ حقائق کا ادراک رکھتے ہیں۔
7۔ بیعتِ یزید کا مطالبہ دراصل حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن لکیر تھا: عبیداللہ بن زیاد کی جانب سے بیعت کا مطالبہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ مسئلہ صرف سیاسی اطاعت کا نہیں تھا بلکہ دینِ اسلام کی حقیقی روح اور باطل نظام کے درمیان انتخاب کا تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے بیعت سے انکار کرکے دینِ محمدیؐ کی حفاظت فرمائی۔
8۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ حق کے حق میں ہوتا ہے: کربلا میں وقتی طور پر طاقت باطل کے پاس تھی، لیکن دائمی عزت، سربلندی اور یادِ خیر امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے جانثاروں کے حصے میں آئی، جبکہ ظلم و ستم کے علمبردار تاریخ میں رسوائی اور عبرت کی علامت بن گئے۔
حق و باطل کی کشمکش میں اصل معیار تعداد، طاقت اور ظاہری مفادات نہیں بلکہ ایمان، بصیرت، تقویٰ اور حق کے ساتھ وفاداری ہے۔ کربلا کا ہر دن انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وقتی مفادات اور دنیاوی لالچ کے بجائے دائمی حقائق اور الٰہی رضامندی کو ترجیح دی جائے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ حق کے علمبرداروں کو زندہ جاوید رکھتی ہے اور باطل کے نمائندوں کو نشانِ عبرت بنا دیتی ہے۔
تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی








