مقدمہ

تاریخِ اسلام میں بعض واقعات ایسے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند ہو کر ایک دائمی مکتبِ فکر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ واقعۂ کربلا انہی عظیم واقعات میں سے ایک ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ واقعہ سن 61 ہجری میں سرزمینِ کربلا پر پیش آیا، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کے اثرات آج بھی انسانی معاشروں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے روانگی کے وقت اپنے قیام کا مقصد ان الفاظ میں بیان فرمایا:«إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي، أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ»”میں نہ سرکشی، نہ تکبر، نہ فساد اور نہ ظلم کے لیے نکلا ہوں، بلکہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں۔”

یہ جملہ نہضتِ حسینی کا منشور اور اصلاحِ معاشرہ کا بنیادی اصول ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عاشورہ کو صرف ایک تاریخی واقعہ یا ایک المناک داستان کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک زندہ مکتب، ایک فکری تحریک اور ایک اصلاحی نظام کے طور پر سمجھا جائے۔ کیونکہ اگر تاریخ کے واقعات صرف قصے کہانیاں ہوتے تو خداوند عالم قرآن مجید میں بار بار انبیائے الٰہی کے واقعات بیان نہ فرماتا۔

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ سینکڑوں آیات میں آیا ہے، حضرت یوسف علیہ السلام کا پورا واقعہ ایک مستقل سورت کی شکل میں بیان کیا گیا ہے، حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت عیسیٰؑ اور دیگر انبیاء کے حالات بھی بارہا ذکر ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن تاریخ کو تفریح یا معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ ہدایت اور تربیت کا وسیلہ قرار دیتا ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے:﴿لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾(سورۂ یوسف: 111)”یقیناً ان کے واقعات میں صاحبانِ عقل کے لیے عبرت ہے۔”

پس جس طرح قرآنی قصص ہدایت کا سرچشمہ ہیں، اسی طرح عاشورہ بھی ایک ایسا زندہ مکتب ہے جو ہر دور میں انسان کو بیداری، بصیرت، عقیدہ اور عمل کی راہ دکھاتا ہے۔

عاشورہ کے بنیادی ثمرات

1۔ عاشورہ عقل کو بیدار کرتا ہے

اسلام میں عقل کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:«إِنَّ لِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حُجَّتَيْنِ: حُجَّةً ظَاهِرَةً وَحُجَّةً بَاطِنَةً، فَأَمَّا الظَّاهِرَةُ فَالرُّسُلُ وَالْأَنْبِيَاءُ وَالْأَئِمَّةُ، وَأَمَّا الْبَاطِنَةُ فَالْعُقُولُ»(اصول الکافی)

اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر دو حجتیں قائم کی ہیں؛ ایک ظاہری یعنی انبیاء، رسول اور ائمہ علیہم السلام، اور دوسری باطنی یعنی عقل۔

عاشورہ انسان کی عقل کو بیدار کرتا ہے۔ جب انسان حر، حبیب بن مظاہر، مسلم بن عوسجہ اور زہیر بن قین جیسے کرداروں کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر میں کربلا میں ہوتا تو کس طرف کھڑا ہوتا؟

حر بن یزید ریاحی کی مثال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ ابتدا میں وہ ابن زیاد کے لشکر کے اہم کمانڈر تھے، لیکن جب انہوں نے حق کو پہچانا تو عقل اور ضمیر نے انہیں جھنجھوڑ دیا۔ تاریخ بیان کرتی ہے کہ حر نے کہا:”میں اپنے آپ کو جنت اور جہنم کے درمیان دیکھ رہا ہوں، اور خدا کی قسم میں جنت پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دوں گا۔”

یہی عقل کی بیداری ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:«العَقْلُ مَا عُبِدَ بِهِ الرَّحْمٰنُ وَاكْتُسِبَ بِهِ الْجِنَانُ»”عقل وہ ہے جس کے ذریعے خدا کی عبادت کی جائے اور جنت حاصل کی جائے۔”

کربلا انسان کو یہی عقل عطا کرتی ہے کہ وہ حق و باطل میں فرق کرنا سیکھے اور اپنے فیصلے خواہشات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر کرے۔

2۔ عاشورہ علم کے ساتھ بصیرت عطا کرتا ہے

علم اور بصیرت میں بنیادی فرق ہے۔ علم معلومات کا نام ہے جبکہ بصیرت معلومات کے صحیح استعمال کا نام ہے۔

روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت ایک طرف جنازہ جا رہا تھا اور دوسری طرف ایک عالم لوگوں کو تعلیم دے رہا تھا۔ اس شخص نے عرض کیا:

"یا رسول اللہ! میں کس طرف جاؤں؟”

آپؐ نے فرمایا:”اگر جنازے میں شرکت کرنے والا کوئی اور موجود ہے تو عالم کی مجلس میں جاؤ، کیونکہ عالم کی مجلس جہالت کے اندھیروں کو ختم کرتی ہے۔”

کوفہ کے بہت سے لوگ عالم تھے، قرآن پڑھتے تھے، نمازیں ادا کرتے تھے، حج کرتے تھے، لیکن بصیرت سے محروم تھے۔ اسی لیے امامِ وقت کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے۔

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:«لَا خَيْرَ فِي قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا»(نہج البلاغہ)

"اس قراءت میں کوئی خیر نہیں جس میں غور و فکر نہ ہو۔”

عاشورہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر خبر، ہر تحریک اور ہر نعرے کو امامِ حق کے معیار پر پرکھا جائے۔ یہی بصیرت فتنوں سے بچاتی ہے۔

3۔ عاشورہ عقیدے کو مضبوط کرتا ہے

کربلا درحقیقت عقیدے کی استقامت کا نام ہے۔

جب حضرت علی اکبر علیہ السلام میدان کی طرف جا رہے تھے تو امام حسینؑ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر فرمایا:«اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ»

شدید مصائب کے باوجود امام کا اعتماد خدا پر متزلزل نہیں ہوا۔

اسی طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا مشہور جملہ:«مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا»

ایمان کی بلند ترین منزل کی نشاندہی کرتا ہے۔

نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:«مَنْ أَصْلَحَ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ أَصْلَحَ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ» "جو اپنے اور خدا کے درمیان تعلق کو درست کر لیتا ہے، خدا اس کے اور لوگوں کے درمیان تعلق کو درست کر دیتا ہے۔”

عاشورہ یہی درس دیتا ہے کہ اگر عقیدہ مضبوط ہو تو دنیا کی بڑی سے بڑی مصیبت بھی انسان کو حق سے ہٹا نہیں سکتی۔

4۔ عاشورہ عبرت اور خود احتسابی کا درس دیتا ہے

امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:«مَا أَكْثَرَ الْعِبَرَ وَأَقَلَّ الِاعْتِبَارَ» (نہج البلاغہ)

"عبرتیں کتنی زیادہ ہیں اور عبرت حاصل کرنے والے کتنے کم ہیں۔”

کربلا میں موجود بہت سے افراد امام حسینؑ کو جانتے تھے۔ عمر بن سعد خاندانِ رسالت سے واقف تھا۔ شمر صفین میں لشکرِ علیؑ میں شامل رہ چکا تھا۔ کوفہ والوں نے خطوط لکھ کر امامؑ کو دعوت دی تھی۔

اس کے باوجود وہ امامِ وقت کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے۔

یہ حقیقت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ صرف جان لینا کافی نہیں، بلکہ حق پر ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔

دشمنانِ اہل بیت کی مشترک صفات

پہلی صفت: ظلم

تمام دشمنانِ حسینؑ ظلم کے راستے پر تھے۔

امام علیؑ فرماتے ہیں:«الظُّلْمُ ثَلَاثَةٌ» (نہج البلاغہ)

ظلم کی مختلف اقسام ہیں لیکن ہر قسم انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہے۔

معاشرے کی اصلاح ظلم کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔

دوسری صفت: معرفتِ خدا سے محرومی

وہ لوگ خدا کا نام لیتے تھے لیکن خدا پر توکل نہیں رکھتے تھے۔

قرآن فرماتا ہے:﴿وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾

جو اللہ پر بھروسہ کرے اللہ اس کے لیے کافی ہے۔

کربلا کے مجرم دنیا کے خوف میں مبتلا تھے، اس لیے حق کا ساتھ نہ دے سکے۔

تیسری صفت: معرفتِ اہل بیتؑ سے محرومی

اہل بیتؑ کی معرفت صرف تاریخی معلومات کا نام نہیں۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:«الإِمَامُ الأَنِيسُ الرَّفِيقُ وَالْوَالِدُ الشَّفِيقُ»

امام صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ انسان کی ہدایت کا زندہ مرکز ہے۔

کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا

بعض لوگ عاشورہ کو صرف ایک واقعہ سمجھتے ہیں۔ ان کی فکر یہیں ختم ہو جاتی ہے کہ "اے کاش میں بھی ہوتا میدان کربلا میں”

لیکن عاشورہ سے بیدار ہونے والے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ کربلا ایک دائمی حقیقت ہے۔

اسی مفہوم کو اس معروف شعار میں بیان کیا جاتا ہے:«كُلُّ يَوْمٍ عَاشُورَاءُ وَكُلُّ أَرْضٍ كَرْبَلَاءُ»

اگرچہ یہ جملہ مشہور حدیثی عبارت کے طور پر معروف ہے، لیکن اس کا مفہوم اہل بیتؑ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمانے میں حق اور باطل آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ ہر دور میں یزیدی طاقتیں موجود ہوتی ہیں اور ہر دور میں حسینی کرداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

عصرِ حاضر، عاشورہ اور انقلابِ اسلامی ایران

عاشورہ نے صرف افراد کو نہیں بلکہ قوموں کو بھی بیدار کیا ہے۔

امام خمینیؒ فرمایا کرتے تھے:”یہ محرم اور صفر ہیں جنہوں نے اسلام کو زندہ رکھا ہے۔”

انقلابِ اسلامی ایران کی فکری بنیادوں میں عاشورہ، شہادت، مزاحمت اور ظلم کے خلاف قیام کے تصورات نمایاں طور پر موجود ہیں۔

ایران نے اپنی سیاسی اور سماجی فکر میں کربلا کے اس پیغام کو نمایاں کیا کہ ظلم اور استکبار کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلابِ اسلامی کے دوران بھی "یا حسینؑ” اور "یا زہراؑ” کے نعرے عوامی تحریک کا حصہ بنے۔

البتہ عاشورہ کا پیغام کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر اس فرد اور قوم کے لیے ہے جو حق، عدل اور آزادی کی حمایت کرتی ہے۔

عاشورہ اور امامِ زمانہؑ

عاشورہ کا سب سے اہم درس امامِ حق کی معرفت ہے۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً» "جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔”

کربلا میں ہزاروں افراد امام حسینؑ کو جانتے تھے لیکن معرفت نہیں رکھتے تھے۔

آج بھی یہی امتحان باقی ہے۔

امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی معرفت صرف یہ جان لینے کا نام نہیں کہ آپ بارہویں امام ہیں یا آپ کب پیدا ہوئے۔ حقیقی معرفت یہ ہے کہ انسان اپنی فکر، اپنے عقائد، اپنے اخلاق اور اپنے عمل کو امامؑ کی رضا کے مطابق ڈھالے۔

دعائے عہد میں ہم روزانہ خدا سے درخواست کرتے ہیں:«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَنْصَارِهِ وَأَعْوَانِهِ وَالْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْهِ» "پروردگار! مجھے امام زمانہؑ کے مددگاروں، معاونوں اور ان کے سامنے شہادت پانے والوں میں قرار دے۔”

درحقیقت عاشورہ ہمیں ظہور کی تیاری سکھاتا ہے۔ جس طرح حر نے آخری لمحے میں حق کو پہچان لیا، اسی طرح ہر مومن کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ حسینی لشکر میں ہے یا یزیدی افکار کے زیرِ اثر۔

نتیجہ

عاشورہ ایک واقعہ نہیں، ایک تہذیب ہے۔ عاشورہ ایک داستان نہیں، ایک دائمی تحریک ہے۔ عاشورہ صرف اشکوں کا نام نہیں بلکہ شعور، بصیرت، معرفت، قیام اور اصلاحِ معاشرہ کا نام ہے۔

یہ عقل کو بیدار کرتا ہے، بصیرت عطا کرتا ہے، عقیدے کو مضبوط کرتا ہے، انسان کو عبرت دیتا ہے اور اسے اپنے زمانے کے امام کی معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔

آج اگر ہم امام حسین علیہ السلام کے مقصدِ قیام کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کربلا کو صرف یاد کرنے کے بجائے اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔ جب ایک فرد ظلم کے خلاف کھڑا ہوگا، حق کی حمایت کرے گا، اہل بیتؑ کی حقیقی معرفت حاصل کرے گا اور امام زمانہؑ کی نصرت کے لیے خود کو آمادہ کرے گا، تبھی امام حسینؑ کے اس فرمان کا حقیقی مصداق بن سکے گا:«إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي»

اور یہی عاشورہ کا حقیقی پیغام اور اصلاحِ معاشرہ کا حقیقی راستہ ہے۔

 

تحریر : محترمہ ثمن رباب رضوی

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے