. امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: والعمل فيه يعدل ثمانين شهرا، و ينبغى ان يكثر فيه ذكر الله عزوجل، والصلوة على النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) ، ويوسع الرجل فيه على عياله…. (وسائل الشيعه 7: 325، ح 6.)

اس دن (عیدِ غدیر) میں ایک نیک عمل کا ثواب اسی (80) مہینوں کے برابر ہے، اور مناسب ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ کا ذکر اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و آلِ محمد علیہم السلام پر درود و صلوات کثرت سے پڑھی جائے، نیز انسان اس دن اپنے اہل و عیال پر فراخ دلی اور وسعت کے ساتھ خرچ کرے۔

2۔ امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا: يوم الغدير فيه اقام النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) اخاه عليا علما للناس و اماما من بعده،(قال) قلت: صدقت جعلت فداك، لذلك قصدت، اشهد انك حجة الله على خلقه…… (وسائل الشيعه 7: 324، ح 3.)

عیدِ غدیر کے دن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے برادرِ گرامی امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کو لوگوں کے لئے عَلَمِ ہدایت اور اپنے بعد امام کے طور پر متعارف کرایا۔

ابو اسحاق نے عرض کیا: میری جان آپ پر قربان ہو، آپ نے سچ فرمایا۔ میں اسی مقصد سے آپ کی زیارت و ملاقات کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت ہیں۔

3۔ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: من زار فيه مؤمنا ادخل‏الله قبره سبعين نورا و وسع فى قبره و يزور قبره كل يوم سبعون الف ملك ويبشرونه بالجنة….. (اقبال الاعمال: 778.)

جو شخص عیدِ غدیر کے دن کسی مومن سے ملاقات کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قبر میں 70 نور داخل فرماتا ہے، اس کی قبر کو کشادہ کر دیتا ہے اور ہر روز ستر ہزار فرشتے اس کی قبر کی زیارت کرتے ہیں اور اسے جنت کی بشارت دیتے ہیں۔

4۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ينبغى لكم ان تتقربوا الى الله تعالى بالبر والصوم والصلوة و صلة الرحم و صلة الاخوان، فان الانبياء عليهم السلام كانوا اذا اقاموا اوصياءهم فعلوا ذلك و امروا به…. (مصباح المتهجد: 736.)

مناسب ہے کہ تم نیکی و احسان، روزہ، نماز، صلۂ رحمی اور اپنے دینی بھائیوں سے ملاقات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو، کیونکہ انبیاء علیہم السلام بھی جب اپنے جانشینوں کو مقرر کرتے تھے تو اسی طرح عمل کرتے اور ان اعمال کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔

5۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: انه تستحب الصلوة فى مسجد الغديرلان النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) اقام فيه امير المؤمنين(ع)و هو موضع اظهرالله عزوجل فيه الحق…. (وسائل الشيعه 3: 549.)

مسجدِ غدیر میں نماز پڑھنا مستحب ہے، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کو لوگوں کے سامنے متعارف کرایا اور اپنے جانشین و ولی کے طور پر مقرر فرمایا۔ نیز یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حق کو آشکار اور نمایاں فرمایا۔

6۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: و من صلى فيه ركعتين اى وقت‏شاء و افضله قرب الزوال و هى الساعة التى اقيم فيها اميرالمؤمنين(علیه السلام) بغدير خم علما للناس و… كان كمن حضر ذلك اليوم… (وسائل الشيعه 5: 225، ح 2.)

جو شخص عیدِ غدیر کے دن کسی بھی وقت دو رکعت نماز ادا کرے، اگرچہ بہتر یہ ہے کہ اسے ظہر کے قریب ادا کرے، کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب غدیرِ خم میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کو منصبِ امامت پر فائز کیا گیا تھا، تو اسے ایسا ثواب ملے گا گویا وہ خود روزِ غدیر کے اس عظیم اجتماع میں حاضر رہا ہو۔

7۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: صيام يوم غدير خم يعدل صيام عمر الدنيا لو عاش انسان ثم صام ما عمرت الدنيا لكان له ثواب ذلك…. (وسائل الشيعه 7: 324، ح 4.)

غدیرِ خم کے دن کا روزہ پوری دنیا کی عمر بھر کے روزوں کے برابر ہے۔ اگر کوئی انسان اتنی مدت تک زندہ رہے جتنی دیر دنیا قائم رہے اور اس تمام عرصے میں روزے رکھے، تو اسے جو ثواب ملے گا، وہی ثواب عیدِ غدیر کے ایک دن کے روزے کا ہے۔

8۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: من يريد ان يحيى حياتى، و يموت مماتى،ويسكن جنة الخلد التى وعدنى ربى‏فليتول على ابن ابى طالب،(ع) فانه لن يخرجكم من هدى،ولن يدخلكم فى ضلالة….. (الغدير 10: 278.)

جو شخص میری طرح زندگی گزارنا چاہے، میری طرح دنیا سے رخصت ہونا چاہے، اور اس ہمیشہ رہنے والی جنت میں سکونت اختیار کرنا چاہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، اسے چاہیے کہ امیرالمؤمنین امام علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کی ولایت و پیروی اختیار کرے، کیونکہ وہ تمہیں کبھی ہدایت کے راستے سے نہیں ہٹائیں گے اور نہ ہی گمراہی میں مبتلا ہونے دیں گے۔

9۔ عن جابر بن عبد الله الانصارى قال: سمعت‏رسول الله(صلی الله علیه و آله و سلم) يقول لعلى بن ابى طالب(علیه السلام):يا على! انت اخى و وصيى و وارثى‏وخليفتى على‏امتى فى‏حيوتى و بعد وفاتى‏محبك محبى و مبغضك مبغضى‏و عدوك عدوى…. (امالى صدوق: 124، ح 5.)

جناب جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امیرالمومنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام سے فرماتے ہوئے سنا: "اے علی! تم میرے بھائی، میرے وصی، میرے وارث اور میری امت پر میری زندگی میں بھی اور میرے وصال کے بعد بھی میرے خلیفہ ہو۔ جو تم سے محبت کرے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، جو تم سے دشمنی رکھے وہ مجھ سے دشمنی رکھتا ہے، اور جو تمہارا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے۔”

10۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: بنى الاسلام على خمس:الصلوة و الزكوة و الصوم و الحج و الولاية‏و لم يناد بشى‏ء ما نودى بالولاية يوم الغدير….. (كافى 2، 21، ح 8.)

اسلام پانچ بنیادوں پر قائم ہے: نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور ولایت۔ اور جس قدر ولایت کے بارے میں تاکید اور اعلان کیا گیا، کسی اور حکمِ دین کے بارے میں اتنی تاکید نہیں کی گئی، خصوصاً روزِ غدیر۔

11. امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا: ولاية على(علیه السلام) مكتوبة فى صحف جميع الانبياء ولن يبعث‏الله رسولا الا بنبوة محمد ووصية على(ع)….. (سفينة البحار 2: 691.)

(امیرالمؤمنین امام) علی (علیہ السلام) کی ولایت تمام انبیاء کے صحیفوں میں لکھی ہوئی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے کسی بھی رسول کو مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور امام علی علیہ السلام کی وصایت کے اقرار کے ساتھ مبعوث ہوا۔

12۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولاية على بن ابى طالب ولاية الله‏ و حبه عبادة الله و اتباعه فريضة الله‏و اولياؤه اولياء الله و اعداؤه اعداء الله‏ و حربه حرب الله و سلمه سلم الله عز و جل…. (امالى صدوق: 32.)

(امیرالمؤمنین امام) علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کی ولایت درحقیقت اللہ کی ولایت ہے، ان سے محبت کرنا اللہ کی عبادت ہے، اور ان کی پیروی کرنا اللہ کا فرض کردہ حکم ہے۔ ان کے دوست اللہ کے دوست ہیں اور ان کے دشمن اللہ کے دشمن ہیں۔ ان سے جنگ کرنا اللہ سے جنگ کرنا ہے، اور ان سے صلح و دوستی کرنا اللہ تعالیٰ سے صلح و دوستی کرنا ہے۔

13۔ عن جعفر، عن ابيه، قال:ان ابليس عدوالله رن اربع رنات:

يوم لعن، و يوم اهبط الى الارض،و يوم بعث النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) و يوم الغدير. (قرب الاسناد، 10)

امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا: دشمن خدا ابلیس چار مرتبہ چیخ مار کر رویا: ایک دن جب اس پر لعنت کی گئی، دوسرا دن جب اسے زمین پر اتارا گیا، تیسرا دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، اور چوتھا دن عیدِ غدیر کا تھا۔

14۔ عن النبى(صلی الله علیه و آله و سلم): يقول الله تبارك و تعالى: ولاية على بن ابى طالب حصنى، فمن دخل حصنى امن من نارى…. (جامع الاخبار: 52، ح 7.)

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: "علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کی ولایت میرا مضبوط قلعہ ہے، پس جو میرے اس قلعہ میں داخل ہو جائے، وہ میری آگ (عذابِ جہنم) سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

15۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: يا على انا مدينة العلم و انت بابها و لن تؤتى المدينة الا من قبل الباب… انت امام امتى و خليفتى عليها بعدى، سعد من اطاعك و شقى من عصاك، و ربح من تولاك و خسر من عاداك….. (جامع الاخبار: 52، ح 9.)

اے علیؑ! میں علم کا شہر ہوں اور تم اس کا دروازہ ہو، اور شہر میں داخلہ دروازے ہی سے ہوتا ہے۔ تم میری امت کے امام اور میرے بعد ان کے خلیفہ ہو۔ خوش نصیب ہے وہ جو تمہاری اطاعت کرے، اور بدبخت ہے وہ جو تمہاری نافرمانی کرے۔ کامیاب ہے وہ جو تمہاری ولایت و محبت اختیار کرے، اور خسارے میں ہے وہ جو تم سے دشمنی رکھے۔

16۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: اثافى الاسلام ثلاثة:الصلوة و الزكوة و الولاية،لا تصح واحدة منهن الا بصاحبتيها…. (كافى: 2، ص 18.)

اسلام کی بنیاد تین چیزوں پر قائم ہے: نماز، زکوٰۃ اور ولایت۔

ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی دوسری دو کے بغیر صحیح اور قابلِ قبول نہیں ہوتی۔

17۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: العجب يا حفص لما لقى على بن ابى‏طالب!! انه كان له عشرة الاف شاهد لم يقدر على اخذ حقه و الرجل ياخذ حقه بشاهدين….. (بحار الانوار: 37، 140.)

"اے حفص! تعجب کی بات یہ ہے کہ (امیرالمؤمنین امام) علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کے حق میں دس ہزار گواہ موجود تھے، پھر بھی اپنا حق واپس نہ لے سکے، جبکہ ایک عام آدمی صرف دو گواہوں کی بنیاد پر اپنا حق لے لیتا ہے۔

18۔ عن النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) فى احتجاجه يوم الغدير: على تفسير كتاب الله، و الداعى اليه، الا و ان الحلال و الحرام اكثر من ان احصيهما و اعرفهما، فآمر بالحلال و انهى عن الحرام فى مقام واحد، فامرت ان آخذ البيعة عليكم و الصفقة منكم، بقبول ما جئت به عن الله عز و جل فى على امير المؤمنين و الائمة من بعده، معاشر الناس تدبروا و افهموا آياته، و انظروا فى محكماته و لا تتبعوا متشابهه، فو الله لن يبين لكم زواجره، و لا يوضع لكم عن تفسيره الا الذى انا آخذ بيده…… (وسايل الشيعه: 18، 142، ح 43.)

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزِ غدیر اپنے خطبۂ غدیر میں فرمایا: "(امیرالمؤمنین امام) علی علیہ السلام اللہ کی کتاب (قرآن) کے حقیقی مفسر اور لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ آگاہ رہو! حلال و حرام کے احکام اتنے زیادہ ہیں کہ میں اس ایک موقع پر ان سب کو نہ شمار کر سکتا ہوں اور نہ ہی ایک ایک کا حکم بیان کر سکتا ہوں۔ اسی لئے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم سے عہد و پیمان لوں کہ تم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے ائمہ علیہم السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچائے گئے میرے پیغام کو قبول کرو گے۔

اے لوگو! قرآن میں غور و فکر کرو، اس کی آیات کو سمجھو، اس کی محکم آیات میں تدبر کرو اور متشابہ آیات کے پیچھے نہ پڑو۔ خدا کی قسم! قرآن کے اوامر و نواہی اور اس کی حقیقی تفسیر کو کوئی تمہارے لئے واضح نہیں کر سکتا، سوائے اس ہستی کے جس کا ہاتھ میں نے پکڑ رکھا ہے اور جسے میں نے تمہارے سامنے متعارف کروایا ہے۔ (یعنی امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام)

 

مولانا سید علی ہاشم عابدی

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے