بسم الله الرحمٰن الرحیم

قال رسول الله: مَن کنتُ مولاہ، فھذا علیّٗ مولاہ..

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں مولا علی علیہ السّلام کی ولایت سے نوازا۔

18 ذوالحجہ، عیدوں میں سب سے بڑی عید

یہ وہ دن ہے جب رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے گلشن کا خوبصورت پھول منتخب ہوا۔ مولا علی علیہ السّلام کی جانشینی کا اعلان ایک واضح اور صریح پیغام تھا، جسے اندھوں نے بھی دیکھا اور بہروں نے بھی سنا۔ اس کے باوجود اگر کوئی علی علیہ السّلام کی ولایت کا انکار کرے تو وہ عقل سلیم جیسی نعمت سے محروم انسان ہے، جو اندھا بھی نہیں بہرا بھی نہیں، بلکہ احمق ہے۔

قسم بخدا اگر لوگ علی علیہ السّلام کی محبت میں جمع ہو جاتے تو خدا کبھی جہنم کو خلق ہی نہ کرتا۔

جو لوگ مولا علی علیہ السّلام کی ولایت اور جانشینی کا انکار کرتے ہیں اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے، وہ ہے بغض و عناد۔

افسوس ہے ان لوگوں پر جن کے بڑے بزرگ اس بات کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں کہ غدیر میں کونسا عظیم واقعہ رونما ہوا اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ لیکن وہ اپنے چھوٹوں کو اس کے برعکس من گھڑت قصہ اور کہانیاں سناتے ہیں جن کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر۔

افسوس ایسے بزرگوں پر اور صد افسوس ایسے جوانوں پر جو خود تحقیق کے میدان میں قدم نہیں رکھتے، خود جستجو نہیں کرتے کہ غدیر میں اصل جانشین پیغمبر کون تھا؟

غدیر کا اہتمام ضروری

18 ذوالحجہ کو آپ جو بھی اہتمام کر سکتے ہیں وہ کریں؛ نیا لباس پہنیں، گھر کو سجائیں، اپنے محلے کی گلیاں سجائیں، گھر میں اچھے اور لذیذ کھانے پکا کر خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں، بچوں کو عیدی دیں، تاکہ وہ اس دن کو یاد رکھیں۔ خواتین زیورات پہنیں اور خوب جوش و ولولے کے ساتھ منائیں تاکہ سب کو معلوم ہوسکے کہ غدیر میں کوئی تو راز ہے جس سے وہ لوگ بے خبر ہیں یا ان کو بے خبر رکھا گیا ہے۔ کیونکہ یاد رکھیں، غدیر کو بھلا دینے کا نتیجہ ہی کربلا تھا۔

غدیری رفتار بھی ضروری ہے اور غدیری کردار بھی

ہمیں ولایت پذیر بننے، ولایت کا دفاع کرنے، ولایت علی علیہ السّلام سے متعلق کتب کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مد مقابل منکر ولایت کے سوالوں کا جواب دے سکیں اور ہمیں خود کو ولایت کے لیے ہمیشہ تیار رکھنے کے ساتھ ساتھ ہماری رفتار میں بھی غدیر اور کردار میں بھی غدیر نظر آئے۔

جو ولایت سے دور ہوا گویا وہ ایک ایسے شخص کی مانند ہے جو صحرا و بیابان میں موجود ہے جہاں نہ کوئی منزل نہ کوئی راستہ اور اسی بیابان میں سرگرداں پھرتا رہتا ہے۔

تحریر: محترمہ شازیہ بتول

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے