حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سیرت، عظیم کردار، صبر و استقامت اور قربانیوں سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے مقصد سے بچیوں کے درمیان ایک دینی و تعلیمی مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں خاصے تعداد میں بچیوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
اس مقابلے کا بنیادی مقصد شرکاء کے درمیان حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی زندگی، ان کے بلند اخلاقی و روحانی مقام، ایثار و قربانی اور صبر و استقامت کی تعلیمات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور اس عظیم ہستی کے تئیں عقیدت و احترام کو فروغ دینا تھا۔
منتظمین کے مطابق، اس پروگرام کا ایک اہم مقصد اسلامی تاریخ کی اس عظیم خاتون کی سیرت اور کارناموں سے حاصل ہونے والے اسباق کو نئی نسل تک پہنچانا اور بچیوں کو ان کی زندگی کے روشن پہلوؤں سے آشنا کرنا تھا۔
بچیوں کی بھرپور شرکت، دینی معلومات پر مبنی سوالات
اس مقابلے میں خاصے تعداد میں کم عمر لڑکیوں نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیں۔ مقابلے کے دوران بچیوں سے اسلامی تعلیمات سے متعلق مختلف سوالات پوچھے گئے۔
پروگرام کا ماحول خوش گوار، پُرجوش اور تعلیمی نوعیت کا تھا۔ اس مقابلے کے ذریعے بچیوں کو نہ صرف اپنی دینی معلومات میں اضافے کا موقع ملا، بلکہ انہیں اسلامی شخصیات کی زندگی سے سبق حاصل کرنے اور اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بنانے کی ترغیب بھی دی گئی۔
نمایاں کارکردگی دکھانے والے بچیوں میں انعامات کی تقسیم
مقابلے کے اختتام پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی بچیوں میں قیمتی اور پرکشش انعامات دیے گئے۔ اس موقع پر دیگر شرکاء کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی اور ان کے درمیان بھی تحائف پیش کیے گئے، تاکہ بچیوں میں دینی و تعلیمی سرگرمیوں کے تئیں دلچسپی اور شوق کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
حضرت زینب کبریٰؑ کی سیرت نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے: مولانا محمد طیب علی انصاری قمی
اس پروگرام کے منتظم خادم اہلبیت، خطیب آل یاسین، حجۃ الاسلام والمسلمین عالی جناب مولانا محمد طیب علی انصاری فاضل قم المقدسہ ایران نے اپنے خطاب میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی زندگی کو انسانیت کے لیے عظیم درس اور نئی نسل کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا اور ساتھ ہی علم کلام پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی صبر و استقامت، ایثار و قربانی اور اللہ تعالیٰ پر غیر متزلزل ایمان و یقین ہمارے لیے بے شمار اسباق کا سرچشمہ ہے۔ ان کی حیاتِ طیبہ بالخصوص بچیوں اور بالخصوص نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، جس سے وہ مشکلات کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے، حق و صداقت کی حمایت کرنے اور اپنے دینی و اخلاقی فرائض کو پہچاننے کا درس حاصل کر سکتے ہیں۔
مولانا محمد طیب علی انصاری قمی نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے دینی و تعلیمی مقابلے بچیوں کے اندر مذہبی معلومات، اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات سے وابستگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے پروگراموں کے ذریعے نئی نسل کو اہل بیت علیہم السلام کی سیرت سے قریب لانے اور ان کے بلند اخلاق و کردار کو اپنانے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے دینی، تعلیمی اور تربیتی پروگراموں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
مقامی افراد کی جانب سے اقدام کا خیرمقدم
اس پروگرام کو مقامی والدین اور مذہبی و دینی حلقوں کی جانب سے سراہا گیا۔ انہوں نے اس طرح کی سرگرمیوں کو بچیوں کی دینی تربیت، اسلامی معلومات میں اضافے اور اخلاقی شخصیت سازی کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے ان کے باقاعدہ انعقاد پر زور دیا۔
مقامی افراد کے مطابق، بچیوں کو کم عمری ہی سے اسلامی شخصیات کی زندگی، ان کی قربانیوں اور تعلیمات سے آشنا کرنا ان کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے اہم ہے۔ ایسے پروگرام بچوں میں دینی شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی اسلامی تہذیب اور تاریخ سے قریب کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
حضرت زینب کبریٰؑ کی ولادت کی مناسبت سے دینی و تعلیمی پروگرام
واضح رہے کہ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اسلامی تاریخ کی عظیم اور ممتاز شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ آپؑ نے اپنے صبر و استقامت، شجاعت، حق گوئی اور قربانی کے ذریعے تاریخِ اسلام میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپؑ کی سیرت آج بھی حق و صداقت کی حمایت، مشکلات میں ثابت قدمی اور دینی و انسانی اقدار کی پاسداری کا درس دیتی ہے۔
آپؑ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ہر سال مختلف مقامات پر دینی و تعلیمی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جن کا مقصد نئی نسل کو اہل بیت علیہم السلام کی عظیم شخصیات کی زندگی اور تعلیمات سے روشناس کرانا اور ان کے اخلاق و کردار کو اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔

















