گیارہویں امام اور حضرت ولی عصرؑ کے والدِ گرامی حضرت امام حسن عسکری علیہ السّلام کی شہادت کے موقع پر، آنحضرت کا مختصر زندگی نامہ پیشِ خدمت ہے۔
سوال:امام حسن عسکریؑ کی زندگی کن نشیب و فراز سے عبارت رہی؟
مختصر جواب:
شیعوں کے گیارہویں پیشوا امام حسن عسکریؑ 232 ہجری میں دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کے والدِ گرامی حضرت امام ہادیؑ اور والدہ ایک نہایت پاکیزہ اور صالح خاتون تھیں جن کا نام ’’سوسن‘‘ ہے۔ عباسی خلیفہ کے حکم پر آپ کو سامرہ کے محلہ ’’عسکر‘‘ میں جبراً سکونت اختیار کرنا پڑی، اسی نسبت سے آپ ’’عسکری‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔
آپ کی عمر 22 سال تھی جب آپ کے والدِ گرامی امام ہادیؑ شہید ہوئے۔ آپ کی مدتِ امامت چھ سال اور عمرِ مبارک 28 سال تھی۔ 260 ہجری میں آپ کو 28 سال کی عمر میں شہید کیا گیا اور سامرہ میں اپنے ہی گھر میں والدِ گرامی کے مرقد کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آنحضرت نے اپنی مختصر مدتِ امامت کے دوران تین عباسی خلفاء کا زمانہ دیکھا: المعتز باللہ، المہتدی باللہ اور المعتمد باللہ
تفصیلی جواب:
امام حسن عسکریؑ، شیعوں کے گیارہویں پیشوا، 232 ہجری میں دنیا میں تشریف لائے۔(۱) آپ کے والد دسویں امام، حضرت امام ہادیؑ، جبکہ والدہ ایک نہایت متقی اور شائستہ خاتون ’’حُدیثہ‘‘ تھیں۔(۲) بعض روایات میں ان کا نام ’’سوسن‘‘ بھی بیان ہوا ہے۔(۳)
یہ عظیم خاتون نیک سیرت اور اسلامی بصیرت کی حامل تھیں اور ان کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد اس انتہائی بحرانی اور اضطراب انگیز دور میں وہ شیعوں کے لیے پناہ گاہ اور مرکزِ اعتماد بن گئیں۔(۴)
چونکہ گیارہویں امام کو عباسی خلیفہ کے حکم پر سامرہ کے محلہ ’’عسکر‘‘ میں جبراً سکونت اختیار کرنا پڑی، اسی نسبت سے آپ ’’عسکری‘‘ کہلائے۔(۵)
آپ کے مشہور القاب میں ’’نقی‘‘ اور ’’زکی‘‘ بھی شامل ہیں،(۶) جبکہ آپ کی کنیت ’’ابو محمد‘‘ تھی۔
آنحضرت کی عمر 22 سال تھی جب آپ کے والدِ گرامی حضرت امام ہادیؑ شہید ہوئے۔ آنحضرت کی مدتِ امامت چھ سال رہی اور آپ کی عمرِ مبارک 28 سال تھی۔ 260 ہجری میں آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا اور آپ کو سامرہ میں اپنے گھر کے اندر والدِ گرامی کے مرقد کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔(۷)
امام حسن عسکریؑ نے اپنی مختصر مدتِ امامت میں عباسی خاندان کے تین خلفاء کا زمانہ دیکھا۔ ان میں سے ہر ایک اپنے پیش رو سے زیادہ ظالم اور جابر تھا۔ ان کے نام یہ ہیں:
1. المعتز باللہ — ۲۵۲ تا ۲۵۵ھ
2. المہتدی باللہ — ۲۵۵ تا ۲۵۶ھ
3. المعتمد باللہ — ۲۵۶ تا ۲۷۹ھ
عباسی خلفاء نے ابتدا میں علویوں کی حمایت اور بنی امیہ سے ان کا انتقام لینے کے نام پر قیام کیا تھا؛ تاہم اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہوں نے عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو یکسر فراموش کر دیا اور بنی امیہ کے خلفاء ہی کی طرح، بلکہ بعض پہلوؤں میں ان سے بھی بڑھ کر ظلم و استبداد کا راستہ اختیار کیا۔(۸)
حوالہ جات:
(۱) کلینی، اصول کافی، تہران، مکتبۃ الصدوق، ۱۳۸۱ھ، ج ۱، ص ۵۰۳؛ شیخ مفید، الارشاد، قم، مکتبۃ بصیرتی، ص ۳۳۵؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، قم، کتاب فروشی مصطفوی، ج ۴، ص ۴۲۲؛ طبرسی، اعلام الوری، طبع سوم، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ص ۳۶۷۔ مسعودی اور علی بن عیسیٰ اربلی نے آپ کی ولادت 231 ہجری بیان کی ہے۔
(۲) شیخ مفید، سابقہ حوالہ، ص ۳۳۵؛ طبرسی، سابقہ حوالہ، ص ۳۶۶۔
(۳) کلینی، سابقہ حوالہ، ص ۵۰۳؛ علی بن عیسیٰ اربلی، کشف الغمۃ، تبریز، مکتبۃ بنی ہاشمی، ۱۳۸۱ھ، ص ۱۹۲۔
(۴) وہ نیک اور صاحبِ معرفت خواتین میں سے تھیں اور ان کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ ابو محمدؑ کی وفات کے بعد وہ شیعوں کی پناہ گاہ تھیں۔ حاج شیخ عباس قمی، الانوار البہیہ، مشہد، کتاب فروشی جعفری، ص ۱۵۱۔
(۵) صدوق، علل الشرائع، قم، مکتبۃ الطباطبائی، ج ۱، باب ۱۷۶، ص ۲۳۰؛ نیز صدوق، معانی الاخبار، تہران، مکتبۃ الصدوق، مؤسسہ دارالعلم، ۱۳۷۹ھ، ص ۶۵۔
(۶) ابو جعفر محمد بن جریر طبری، دلائل الامامہ، طبع سوم، قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۳ش، ص ۲۲۳۔
(۷) شیخ مفید، الارشاد، قم، مکتبۃ بصیرتی، ص ۳۴۵؛ شیخ عبداللہ الشبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، طبع دوم، قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۳ش، ص ۱۷۸۔۱۷۹۔
(۸) ماخوذ از کتاب: مهدی پیشوائی، سیرۂ پیشوایان، مؤسسہ امام صادقؑ، قم، ۱۳۹۰ش، ص ۶۱۵۔








