تاریخِ اسلام میں بعض ایام ایسے ہیں جو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک مکمل مکتبِ فکر، ایک زندہ پیغام اور ایک دائمی منشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 24 ذی الحجہ، یعنی عیدِ مباہلہ بھی انہی عظیم اور یادگار ایام میں سے ایک ہے۔ یہ دن درحقیقت رسالتِ محمدیؐ کی صداقت، ولایتِ علویؑ کی حقانیت، عصمتِ فاطمیؑ کی طہارت اور امامتِ حسنین کریمینؑ کی عظمت کا خدائی اعلان ہے۔

مباہلہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان محض ایک علمی مناظرے کا اختتام نہیں تھا بلکہ حق و باطل، نور و ظلمت، یقین و تردید، اور وحی و تحریف کے درمیان ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ اس دن آسمان نے زمین پر یہ اعلان کیا کہ اگر خدا کے بعد کسی کا انتخاب حجت ہے تو وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتخاب ہے، اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری امت میں سے صرف چار نفوسِ مقدسہ کو اپنے ساتھ مباہلہ کے لئے منتخب فرمایا ہے تو اس کے پس منظر میں یقیناً کوئی عظیم الٰہی راز کارفرما ہے۔

مباہلہ: دلیل کے بعد آخری حجت

اسلام منطق، استدلال اور برہان کا دین ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کے عیسائی وفد سے طویل گفتگو فرمائی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کے شبہات کا ازالہ کیا، اور توحید و نبوت کے روشن دلائل پیش فرمائے۔ لیکن جب حق پوری طرح واضح ہو جانے کے باوجود انہوں نے تعصب اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کیا تو خداوندِ عالم نے آیتِ مباہلہ نازل فرمائی۔

قابلِ غور امر یہ ہے کہ اس موقع پر خدا نے جنگ کا حکم نہیں دیا، تلوار اٹھانے کا حکم نہیں دیا، بلکہ فرمایا کہ آؤ! خدا کی بارگاہ میں فیصلہ کر لیتے ہیں۔ یہی اسلام کی اخلاقی برتری، روحانی قوت اور حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

اہلِ بیتؑ: آیتِ مباہلہ کی عملی تفسیر

جب آیتِ مباہلہ نازل ہوئی تو سب کی نگاہیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اٹھ گئیں کہ "ابناءنا”، "نسائنا” اور "انفسنا” کے مصادیق کون ہیں؟

تاریخ گواہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ ازواجِ مطہرات کو بلایا، نہ بنی ہاشم کے تمام افراد کو جمع فرمایا، نہ مہاجرین و انصار کے سرداروں کو اپنے ساتھ لیا، بلکہ صرف چار مقدس ہستیوں کو منتخب فرمایا: امیرالمؤمنین امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام۔ یہ انتخاب درحقیقت قیامت تک کے لئے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی فضیلت پر خدائی مہرِ تصدیق ثبت کرنا تھا۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اللّٰهُمَّ هٰؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي” (بارالٰہا! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔) یہ جملہ صرف تعارف نہیں بلکہ امامت و ولایت کا ایک ابدی منشور ہے۔

"انفسنا” اور مقامِ امیرالمؤمنین علیہ السلام

آیتِ مباہلہ کا سب سے عظیم اور گہرے معانی کا حامل لفظ "انفسنا” ہے۔ مفسرینِ اسلام کا اتفاق ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو میدانِ مباہلہ میں لائے تھے، لہٰذا "انفسنا” کے مصداق امیرالمؤمنین علیہ السلام قرار پائے۔

یہ ایسا بلند مقام ہے کہ قرآنِ مجید نے امیر المومنین امام علی علیہ السلام کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نفس قرار دیا۔ چنانچہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علم، تقویٰ، عدالت، شجاعت اور قربِ الٰہی میں بلند ترین مقام رکھتے ہیں، اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام امت کے لئے ان تمام فضائل کا کامل نمونہ ہیں۔ اسی لئے واقعۂ مباہلہ کو ولایتِ علویؑ کی ایک روشن قرآنی سند قرار دیا جاتا ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: نساءِ عالمین کی نمائندہ

آیت میں "نسائنا” جمع کا صیغہ استعمال ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک خاتون کو اپنے ساتھ لائے، اور وہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا تھیں۔ گویا پوری کائنات کی پاکیزہ خواتین ایک طرف اور فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا ایک طرف۔

یہ انتخاب اس حقیقت کا اعلان تھا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا صرف رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دخترِ گرامی نہیں بلکہ بقائے دین کا محور، امامت کی مادرِ گرامی اور عصمتِ الٰہی کا روشن مظہر ہیں۔

سبطینِ کریمین علیہما السلام: امامت کے روشن چراغ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نواسوں، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام، کو ساتھ لے کر میدانِ مباہلہ میں تشریف لائے۔

یہ صرف دو بچوں کو ساتھ لانا نہیں تھا بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے یہ اعلان تھا کہ حق کی جنگ عمر نہیں بلکہ کردار، ایمان اور صداقت کو دیکھتی ہے۔

امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السلام وہ آفتابِ ہدایت ہیں جن کی روشنی قیامت تک انسانیت کو راستہ دکھاتی رہے گی۔ مباہلہ میں ان کی موجودگی درحقیقت امامت کے تسلسل کا اعلان تھی اور کربلا اسی اعلان کی عملی تفسیر بنی۔

نجران کے عیسائی کیوں خوف زدہ ہوئے؟

جب نجران کے عیسائی علماء نے ان نورانی چہروں کو دیکھا تو ان کے دل لرز اٹھے۔ انہوں نے کہا: "ہم ایسے چہرے دیکھ رہے ہیں کہ اگر یہ خدا سے دعا کریں تو پہاڑ اپنی جگہ سے سرک جائیں۔”

یہ خوف تلوار کا نہیں تھا، بلکہ روحانیت کا تھا؛ یہ خوف طاقت کا نہیں تھا، بلکہ صداقت کا تھا؛ یہ خوف لشکر کا نہیں تھا، بلکہ اس یقین کا تھا جو صرف خدا کے برگزیدہ بندوں کو عطا ہوتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے مباہلہ سے گریز کیا اور صلح کو ترجیح دی۔

یہ حق کی ایسی فتح تھی جس میں نہ خون بہا، نہ تلوار چلی، لیکن باطل نے خود اپنی شکست کا اعتراف کر لیا۔

عیدِ مباہلہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کی کامیابی کے لئے ہمیشہ بڑی تعداد، وسیع وسائل اور ظاہری طاقت ضروری نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک رسولؐ، ایک علیؑ، ایک فاطمہؑ، ایک حسنؑ اور ایک حسینؑ پوری انسانیت پر حجت ہیں۔

تاریخ کا ہر فرعون اکثریت، اقتدار اور وسائل کا مالک تھا، لیکن حق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ یزید کے پاس سلطنت، فوج اور حکومت تھی، لیکن حق امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ آج بھی حق کا معیار تعداد، طاقت اور شہرت نہیں بلکہ صداقت، عدالت اور رضائے الٰہی ہے۔

واقعۂ مباہلہ یہ سبق دیتا ہے کہ اگر عقیدہ مضبوط ہو، ایمان زندہ ہو، کردار پاکیزہ ہو اور خدا پر یقین کامل ہو تو باطل کے مضبوط ترین قلعے بھی لرز اٹھتے ہیں اور ظاہری طاقتیں بے بس ہو جاتی ہیں۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اہلِ حق کو کبھی احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ان کے ساتھ خدا کی نصرت، سچائی کی قوت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات ہوں تو وہ تنہا ہو کر بھی غالب رہتے ہیں۔

مباہلہ سے کربلا تک

مباہلہ اور کربلا دو جداگانہ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی نورانی حقیقت کے دو درخشاں ابواب ہیں۔

مباہلہ میں امام حسین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوشِ رحمت میں حق کے گواہ بن کر میدان میں آئے تھے، اور کربلا میں وہی امام حسین علیہ السلام شمشیروں، نیزوں اور خنجروں کے درمیان حق کے محافظ بن کر کھڑے ہوئے۔

مباہلہ میں اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنی صداقت کو ثابت کیا اور کربلا میں اسی صداقت کی قیمت ادا کی۔

مباہلہ اعلانِ ولایت تھا اور کربلا تحفظِ ولایت ہے۔

مباہلہ دلیل تھا اور کربلا تفسیر ہے۔

مباہلہ آیت تھا اور کربلا اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔

مباہلہ میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ بیت علیہم السلام کو امت کے سامنے پیش کیا اور کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے انہی تعلیمات کی بقا کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

اسی لئے اگر مباہلہ کو سمجھنا ہے تو کربلا کو سمجھنا ہوگا، اور اگر کربلا کی روح تک پہنچنا ہے تو مباہلہ کے پیغام کو دل میں اتارنا ہوگا۔

آج امتِ مسلمہ فکری انتشار، ثقافتی یلغار، اخلاقی انحطاط، سیاسی استبداد اور روحانی بحرانوں سے دوچار ہے۔ مادّیت نے انسان کو اس کے حقیقی مقصدِ حیات سے غافل کر دیا ہے اور باطل مختلف شکلوں میں حق کے مقابل صف آرا ہے۔

ایسے نازک دور میں عیدِ مباہلہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نجات کا راستہ اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت، قرآنِ مجید سے وابستگی اور حق کے ساتھ استقامت میں پوشیدہ ہے۔

اگر امت دوبارہ عزت، وحدت، عظمت اور سربلندی حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے درِ اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستہ ہونا ہوگا۔

اسے اپنا عقیدہ اہلِ بیت علیہم السلام سے حاصل کرنا ہوگا۔

اپنا اخلاق اہلِ بیت علیہم السلام سے سیکھنا ہوگا۔

اپنی عبادت اہلِ بیت علیہم السلام سے سیکھنی ہوگی۔

اپنی سیاست اہلِ بیت علیہم السلام سے سیکھنی ہوگی۔

اپنی حریت، عزتِ نفس اور ظلم کے خلاف قیام کا درس اہلِ بیت علیہم السلام سے لینا ہوگا۔

کیونکہ یہی وہ گھرانہ ہے جسے خداوندِ عالم نے امت کی ہدایت اور نجات کا مرکز قرار دیا ہے۔

نظر معرفت سے مباہلہ بندۂ مؤمن کے خدا پر کامل اعتماد اور یقینِ کامل کا نام ہے۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ جب انسان خدا کی رضا میں فنا ہو جاتا ہے تو وہ کسی ظاہری قوت سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔

مباہلہ دراصل یقین کا معجزہ ہے۔ یہ خدا پر توکل کی معراج ہے۔ یہ بندگی کی انتہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے سب سے عزیز افراد کو بھی خدا کی راہ میں پیش کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے میدانِ مباہلہ میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ اقدس پر خوف کا شائبہ تک نہ تھا، کیونکہ آپؐ حق پر تھے، اور جو حق پر ہوتا ہے وہ کبھی خوف زدہ نہیں ہوتا۔

عیدِ مباہلہ صرف ایک عید نہیں، بلکہ ایک عظیم اعلان ہے، یہ اعلان ہے کہ حق کبھی مغلوب نہیں ہوتا، یہ اعلان ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام خدا کی منتخب اور برگزیدہ ہستیاں ہیں، یہ اعلان ہے کہ ولایت دین کی روح اور شریعت کی جان ہے، یہ اعلان ہے کہ محمدؐ و آلِ محمد علیہم السلام سے وابستگی ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔

آئیے! اس مبارک دن عہد کریں کہ ہم اپنے عقائد کو معرفتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے روشن کریں گے، اپنے کردار کو سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے آراستہ کریں گے، قرآن اور عترت سے اپنی وابستگی کو مضبوط بنائیں گے، اور ہر دور کے ظلم، باطل اور یزیدیت کے مقابلے میں امامِ مظلومان حضرت امام حسین علیہ السلام کے پرچمِ حق کے نیچے ثابت قدم رہیں گے۔

بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ وہ ہمیں عیدِ مباہلہ کے حقیقی پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت و محبت میں اضافہ کرنے اور ولایتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے