امریکہ کی جانب سے ایران کی شرائط قبول کیے جانے پر اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کا بیان
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے امریکہ کی جانب سے ایران کی شرائط قبول کیے جانے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔جسکا مکمل متن اس طرح ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایران کی معزز، عظیم اور بہادر قوم کی خدمت میں عرض ہے:
دشمن نے ایران کے خلاف اپنی ظالمانہ، غیر قانونی اور مجرمانہ جنگ میں ایک ناقابلِ انکار، تاریخی اور سخت شکست کھائی ہے۔ یہ کامیابی رہبرِ شہید انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (سلام اللہ علیہ) کے پاک خون، رہبرِ معظم انقلاب اسلامی اور سپہ سالار حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی حکمتِ عملی، اور اسلامی مجاہدین کی قربانیوں، خصوصاً آپ عظیم عوام کی تاریخی اور پرجوش شرکت کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔
ایران نے ایک عظیم کامیابی حاصل کرتے ہوئے امریکہ کو اپنے 10 نکاتی منصوبے کو اصولی طور پر قبول کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رہنا
افزودگی (یورینیم) کی منظوری
تمام بنیادی و ثانوی پابندیوں کا خاتمہ
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر اداروں کی تمام قراردادوں کا اختتام
ایران کو اسکے نقصان کا ہرجانہ ادا کرنا
خطے سے امریکی افواج کا مکمل انخلا
تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، بشمول لبنان کی مزاحمتی تحریک کے خلاف کارروائیاں
ہم اس کامیابی پر تمام ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس کامیابی کی تفصیلات کے حتمی مرحلے تک پہنچنے کے لیے اب بھی استقامت، ذمہ داران کی دانشمندانہ حکمتِ عملی، اور ایرانی عوام کے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
اسلامی ایران نے لبنان، عراق، یمن اور مقبوضہ فلسطین میں مزاحمت کے دلیر مجاہدین کے ساتھ مل کر گزشتہ 40 دنوں میں دشمن کو ایسے ضربات پہنچائے ہیں جنہیں عالمی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ ایران اور محورِ مزاحمت نے، انسانیت اور شرافت کے نمائندوں کے طور پر، انسانیت کے بدترین دشمنوں کے مقابل ایک تاریخی جنگ کے بعد انہیں ایسا سبق سکھایا جو ناقابلِ فراموش ہے اور ان کی افواج، وسائل، بنیادی ڈھانچے اور تمام سیاسی، اقتصادی، تکنیکی و عسکری سرمایہ کو اس طرح تباہ کر دیا ہے کہ دشمن اب زوال اور بے بسی کا شکار ہو چکا ہے اور اس کے پاس عظیم ایرانی قوم اور محورِ مزاحمت کے ارادے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں جب مجرمانہ دشمنوں نے یہ ظالمانہ جنگ شروع کی، تو ان کا خیال تھا کہ وہ قلیل وقت میں مکمل فوجی برتری حاصل کر لیں گے اور سیاسی و سماجی عدم استحکام پیدا کر کے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون طاقت جلد ختم ہو جائے گی، اور انہیں یقین نہیں تھا کہ ایران اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر پورے خطے میں اتنا طاقتور جواب دے سکے گا۔
صہیونی آلہ کاروں نے امریکا کے نادان صدر کو قائل کیا تھا کہ یہ جنگ ایران کا خاتمہ کر دے گی اور وہ انسانیت کے اس آخری مضبوط قلعے کو ختم کر کے آئندہ جس کے خلاف چاہیں بلاخوف جرائم کر سکیں گے۔ وہ یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ عزیز ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے اس کے تیل اور وسائل لوٹ لیں گے اور آخرکار ایرانی عوام کو طویل عرصے تک افراتفری، عدم استحکام اور بدامنی میں چھوڑ دیں گے۔
اسلام کے دلیر مجاہدین اور محورِ مزاحمت کے ان کے بہادر اتحادیوں نے، اس کے باوجود کہ ان کے دل اپنے امام کی شہادت کے غم سے زخمی تھے، خدا پر توکل کرتے ہوئے اور سید الشہداء کی پیروی میں فیصلہ کیا کہ وہ ایک بار ہمیشہ کے لیے دشمنوں کو تاریخی سبق سکھائیں گے، ان کے تمام سابقہ جرائم کا بدلہ لیں گے اور ایسے حالات پیدا کریں گے کہ دشمن ہمیشہ کے لیے ایران پر جارحیت کا خیال اپنے ذہن سے نکال دے اور عظیم ایرانی قوم کے سامنے ذلت و رسوائی کا مکمل مزہ چکھے۔
اس حکمت عملی اور ملک میں پیدا ہونے والے بے مثال سیاسی و سماجی اتحاد کی بنیاد پر، ایران اور محورِ مزاحمت نے امریکا اور صہیونی رجیم کے خلاف تاریخ کی سب سے بھاری مشترکہ جنگ میں سے ایک کا آغاز کیا اور اس دوران اس جنگ کے تمام ابتدائی اہداف حاصل کیے جو پہلے طے کیے گئے تھے۔
ایران اور محورِ مزاحمت نے خطے میں امریکی فوجی مشینری کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا، دشمن کی جانب سے سالوں میں ایران کے خلاف تیار کی گئی تمام بنیادی ڈھانچے اور وسائل کو شدید اور گہرے ضربات پہنچائے، خطے کے مختلف محاذوں پر امریکی فوج کو بھاری نقصانات سے دوچار کیا، اور مقبوضہ علاقوں میں دشمن کی افواج، بنیادی ڈھانچے، وسائل اور اثاثوں کو تباہ کن ضربات پہنچا کر ہر محاذ پر دشمن کے لیے میدان تنگ کر دیا۔ نتیجتاً نہ صرف دشمن کے بنیادی مقاصد حاصل نہیں ہوئے بلکہ جنگ کے آغاز کے تقریباً 10 دن بعد دشمن یہ سمجھ گیا کہ وہ اس جنگ میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، اور اسی وجہ سے مختلف ذرائع سے ایران سے رابطہ قائم کرنے اور جنگ بندی کی درخواستیں شروع کر دی ہیں۔
ایرانی قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے بہادر بیٹوں کی قربانیوں اور تاریخی موجودگی کی برکت سے دشمن ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ایران اور محورِ مزاحمت کی تباہ کن طاقت کو روکنے کے لیے التماس کر رہا ہے، لیکن ملک کے حکام نے چونکہ آغاز سے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ جنگ کو اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک دشمن کو پچھتانا، مستاصل ہونا اور ملک کے طویل مدتی خطرات کا خاتمہ نہ ہو، اس لیے تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا اور جنگ چالیسویں دن تک جاری رہی۔ ایران نے اس دوران امریکا کے صدر کی جانب سے دی گئی متعدد آخری مہلتیں بھی مسترد کیں اور واضح طور پر کہا کہ دشمن کی کسی بھی قسم کی دھمکی یا آخری مہلت کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی۔
اب ہم عظیم ایرانی قوم کو خوشخبری دیتے ہیں کہ جنگ کے تقریباً تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور آپ کے بہادر بیٹوں نے دشمن کو تاریخی بے بسی اور دائمی شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران کا تاریخی فیصلہ، جس کے پیچھے پوری قوم کا یکجہتی کا سہارا موجود ہے، یہ ہے کہ یہ جنگ اتنے عرصے تک جاری رہے گی جتنا ضروری ہو تاکہ اس کے عظیم نتائج مستحکم ہوں اور خطے میں نئی سلامتی اور سیاسی مساوات ایران اور محورِ مزاحمت کی طاقت اور حاکمیت کی بنیاد پر قائم ہو۔
اسی تناظر میں، اور رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی حکمت عملی اور اعلیٰ سلامتی کونسل کی منظوری کے مطابق، اور میدانِ جنگ میں ایران اور محورِ مزاحمت کی بالادستی اور دشمن کی تمام دعوؤں کے باوجود اپنی دھمکیوں پر ناتوانی، اور ایرانی عوام کے جائز مطالبات کی سرکاری طور پر منظوری کے پیشِ نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر میدانِ جنگ میں ایران کی فتح کے تمام پہلوؤں کو سیاسی مذاکرات میں بھی مستحکم کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں ایران نے دشمن کے پیش کردہ تمام منصوبوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک 10 نکاتی منصوبہ بنایا اور اسے پاکستان کے ذریعے امریکی فریق کو پیش کیا، جس میں ایرانی مسلح افواج کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے ذریعے کنٹرول شدہ گزرگاہ جیسے بنیادی نکات پر زور دیا گیا، جس سے ایران کو ایک منفرد اقتصادی اور جغرافیائی حیثیت حاصل ہو گی، جو کہ تمام جنگی عناصر کے خلاف جنگ کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب بچوں کے قاتل اسرائیلی حکومت کی جارحیت کی تاریخی شکست، خطے میں تمام اڈوں اور تعیناتی مقامات سے امریکی لڑاکا افواج کا انخلا، آبنائے ہرمز میں ایک محفوظ ٹرانزٹ پروٹوکول کا اس طرح سے قیام ہے جو طے شدہ پروٹوکول کے مطابق ایران کے تسلط کی ضمانت دیتا ہے، ایران کے تمام نقصانات کی مکمل ادائیگی اور دوسرے تخمینے کے مطابق ایران کو ہونے والے نقصانات کی ابتدائی ادائیگی۔ بورڈ آف گورنرز اور سلامتی کونسل کی قراردادیں، بیرون ملک منجمد تمام ایرانی اثاثوں اور جائیدادوں کی رہائی اور آخر میں سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد میں ان تمام معاملات کی توثیق۔ واضح رہے کہ اس قرار داد کی توثیق ان تمام معاہدوں کو بین الاقوامی قانون کے پابند بنا دے گی اور ایرانی قوم کے لیے ایک اہم سفارتی فتح پیدا کرے گی۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی فریق نے تمام ظاہری دھمکیوں کے باوجود ان اصولوں کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کیا ہے اور ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اس کے مطابق اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایران صرف ان اصولوں کی بنیاد پر اسلام آباد میں امریکی فریق کے ساتھ دو ہفتے تک مذاکرات کرے گا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اس کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں ہے اور ایران جنگ کے خاتمے کو اسی وقت قبول کرے گا جب 10 نکاتی منصوبے میں ایران کی طرف سے پیش کردہ اصولوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تفصیلات کو بھی مذاکرات میں حتمی شکل دی جائے۔
یہ مذاکرات 21 فروردین بمطابق 10 اپریل 2026 بروز جمعہ اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور ایران اس مذاکرات کے لیے دو ہفتے کا وقت مختص کرے گا۔ یہ مدت دونوں فریقین کے اتفاق سے بڑھائی جا سکتی ہے۔ اس دوران لازم ہے کہ قومی یکجہتی مکمل طور پر برقرار رہے اور فتح کے جشن جوش و خروش کے ساتھ جاری رہیں۔
اگر دشمن میدان میں سرِ تسلیم خم کرتا ہے اور یہ مذاکرات میں ایک قطعی سیاسی کامیابی میں بدل جائے تو ہم سب مل کر اس عظیم تاریخی فتح کا جشن منائیں گے۔ ورنہ ہم میدان میں ایک ساتھ لڑتے رہیں گے جب تک کہ ایرانی قوم کے تمام جائز مطالبات پورے نہ ہو جائیں۔ ہمارے ہاتھ ٹریگر پر ہیں، اور جیسے ہی دشمن کی طرف سے کوئی بھی چھوٹی سی غلطی ہوگی، ہم اسے پوری طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔
اعلیٰ قومی سلامتی کونسل
19 فروردین 1405 بمطابق 8 اپریل 2026







