حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی معرفت کے دو طریقے پہلا طریقہ یہ ہے کہ آپ کی معرفت آپ کے نام اور حسب و نسب کے ذریعہ حاصل کی جائے، یعنی ہم آپ کی بابرکت ذات کی معرفت اس طریقہ سے حاصل کر سکتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:”وَهِيَ الصِّدِّيقَةُالْكُبْرَی‌ وَعَلَی‌ مَعْرِفَتِهَادَارَتِ الْقُرُونُ الْأُولَی‌”، یعنی فاطمہ(س) بہت ہی زیادہ سچ بولنے والی ہیں اور ان کی معرفت کے اردگرد گزشتہ زمانے چکر لگاتے ہیں، یہی معرفت اجمالی ہے، اس معرفت سے لوگ اتنا جان سکتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہراء (س) کا احترام کریں اور آپ کی حرمت کا خیال رکھیں، کیونکہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کا احترام حقیقت میں رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام ہے آپ سے محبت رسول سے محبت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معرفت کی دوسری قسم یہ ہے کہ انسان حقیقت ذات اور کنہ ذات کی معرفت حاصل کرے، یعنی تمام کمالات و فضیلتوں اور مقامات و حالات کو درک کریں اور آپ کی معرفت حاصل کریں اس طرح کی معرفت کسی بھی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے سوائے پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کے کیوں کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کے حالات اور اوصاف کمالات و فضائل اور مناقب بے شمار ہیں اور اور یہ ناقص انسان کے لئے ممکن نہیں ہے، کیونکہ جس ذات کے اوصاف و کمالات اور فضائل و مناقب زیادہ ہوتے ہیں اس کی قدر ومنزلت بھی زیادہ ہوتی ہے اور جس کی قدر ومنزلت زیادہ ہو تو اس کی شناخت و معرفت مشکل سے مشکل تر ہوتی ہے۔

مولانا نقی مہدی زیدی نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ يُونُسَ بْنِ ظَبْيَانَ سے روایت ہے کہ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا:”قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ تِسْعَةُ أَسْمَاءَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ فَاطِمَةُ وَالصِّدِّيقَةُ وَالْمُبَارَكَةُ وَالطَّاهِرَةُ وَ الزَّكِيَّةُ وَالرَّاضِيَةُ وَالْمَرْضِيَّةُ وَالْمُحَدَّثَةُ وَالزَّهْرَاءُ”، فاطمہ(س) کے اللّہ عزوجل کے نزدیک نو نام ہیں: فاطمہ، صدیقہ(انتہائی سچی)، مبارکہ، طاھرہ، زکیہ(پاکیزہ)، راضیہ(جو خدا سے راضی ہے)، مرضیہ(جس سے خدا راضی ہے)، محدثہ(جس سے ملائکہ بات کرتے ہوں) اور زھرا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فاطمہ(س) کو فاطمہ کیوں کہتے ہیں؟ اس سلسلے میں کلام معصومین علیہم السلام میں موجود روایات میں دس وجوہات بیان ہوئی ہیں:

١۔ عَنْ يُونُسَ بْنِ ظَبْيَانَ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ :”أَتَدْرِي أَيُّ شَيْءٍ تَفْسِيرُ فَاطِمَةَ قُلْتُ أَخْبِرْنِي يَا سَيِّدِي قَالَ فُطِمَتْ مِنَ الشَّرِّ قَالَ ثُمَّ قَالَ لَوْلاَ أَنَّ أَمِيرَالْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ تَزَوَّجَهَا لَمَاكَانَ لَهَاكُفْوٌ إِلَی‌ يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَلَی‌ وَجْهِ الْأَرْضِ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ”، کیا جانتے ہو کہ فاطمہ(س) کی تفسیر کیا ہے؟!

یونس نے کہا:نہیں جانتا

فرمایا:کیونکہ مفطوم(منقطع) از شر ہے۔

پھر فرمایا: اگر حضرت علی علیہ السلام نہ ہوتے تو روزِ قیامت تک روئے زمین پر آدم یا بعد والوں میں سے کوئی بھی فاطمہؑ کا کوئی بھی کفو اور ہمسر نہ ہوتا۔

٢۔ پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہراء (س) سے فرمایا:”شَقَّ اللَّهُ لَكِ يَافَاطِمَةُ اِسْماً مِنْ أَسْمَائِهِ فَهُوَالْفَاطِرُ وَأَنْتِ فَاطِمَةُ”، اے فاطمہ، خدا نے تمہارے نام کو اپنے نام سے مشتق کیا ہے، وہ(خالق) فاطر ہے اور تم فاطمہ۔

٣۔ پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا”هل تدري لم سمّيت فاطمة ؟ قال عليّ عليه السّلام:لم سمّيت فاطمة يارسولاللّه؟ قال: لأنّها فطمت هي وشيعتها من النار”، کیا آپ جانتے ہیں کہ فاطمہ(س) کا نام فاطمہ(س) کیوں رکھا گیا حضرت علی علیہ السلام نے سوال کیا کیوں فاطمہ(س) کا نام فاطمہ(س) رکھا گیا تو پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ فاطمہ(س) اور ان کے شیعوں کو آتش جہنم سے دور رکھا ہے۔

٤۔ پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا”سمّيت (ابنتي) فاطمة، لأنّ اللّه تعالی‌ فطم من أحبّها عن النار”، فاطمہ(س) کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا کیونکہ جو ان سے محبت رکھےگا اللہ نے اس کو جہنم کی آگ سے دور رکھا ہے۔

٥۔ جناب جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”إِنَّمَا سَمَّيْتُ اِبْنَتِي فَاطِمَةَ لِأَنَّ اللَّهَ فَطَمَهَا وَ فَطَمَ مُحِبِّيهَا عَنِ النَّارِ”، میری بیٹی فاطمہ(س) کا نام اس لئے فاطمہ(س ) رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے چاہنے والوں کو آتش جہنم سے بچایا ہوا ہے۔

٦۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:”لَمَّا وُلِدَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ أَوْحَی‌ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَی‌ مَلَكٍ فَأَنْطَقَ بِهِ لِسَانَ مُحَمَّدٍ صَلَّی‌ اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَمَّاهَا فَاطِمَةَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي فَطَمْتُكِ بِالْعِلْمِ وَفَطَمْتُكِ عَنِ اَلطَّمْثِ. ثُمَّ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ: وَاللَّهِ لَقَدْ فَطَمَهَااللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَی‌ بِالْعِلْمِ وَ عَنِ الطَّمْثِ بِالْمِيثَاقِ”، جب اللہ نے حضرت فاطمہ(س) کو خلق کیا تو ایک فرشتہ کی‌طرف وحی کی کہ نام فاطمہ(س) زبان پیغمبر(ص) پر جاری کرو لہٰذا رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کا نام فاطمہ(س) رکھا اور ان سے فرمایا بیشک میں نے تمہیں علم کے ذریعہ ہر نادانی و پلیدگی سے جدا قرار دیا۔

٧۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں اس آیت کی تفسیر میں:”إِنّٰا أَنْزَلْنٰاهُ فِي لَيْلَةِ اَلْقَدْرِ ” "اَللَّيْلَةُ فَاطِمَةُ” "وَالْقَدْرُ اَللَّهُ” فَمَنْ عَرَفَ فَاطِمَةَ حَقَّ مَعْرِفَتِهَا فَقَدْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنَّمَا سُمِّيَتْ فَاطِمَةُ لِأَنَّ الْخَلْقَ فُطِمُوا عَنْ مَعْرِفَتِهَا، لیلۃ سے مراد فاطمہ(س) اور قدر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے بس جس نے حضرت فاطمہ(س) کی معرفت حاصل کرلی اس نے گویا شب قدر کو درک کرلیا، فاطمہ(س) کا نام فاطمہ(س) اس لئے رکھا گیا کیونکہ مخلوق خدا ان کی معرفت سے عاجز ہے۔

٨۔ ابن عباس نے معاویہ سے کہا:”أَتَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ فَاطِمَةُ فَاطِمَةَ قَالَ لاَ قَالَ لِأَنَّهَا فُطِمَتْ هِيَ وَشِيعَتُهَا مِنَ النَّارِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی‌اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ يَقُولُهُ”، کیا جانتے ہو کہ فاطمہ(س) کو فاطمہ(س) کیوں کہتے ہیں اس نے کہا نہیں ابن عباس نے کیونکہ فاطمہ(س) اور ان کے پیروکاروں کو جہنم کی آگ سے دور رکھا ہے میں نے یہ روایت رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔

٩۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:”لِفَاطِمَةَوَقْفَةٌ عَلَی‌بَابِ جَهَنَّمَ فَإِذَاكَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُتِبَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ رَجُلٍ مُؤْمِنٍ أَوْكَافِرٍ فَيُؤْمَرُ بِمُحِبٍّ قَدْكَثُرَت ذُنُوبُهُ إِلَی‌النَّارِفَتَقْرَأُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مُحِبّاً فَتَقُولُ إِلَهِي وَ سَيِّدِي سَمَّيْتَنِي فَاطِمَةَ وَفَطَمْتَ بِي مَنْ تَوَلاَّنِي وَتَوَلَّی‌ ذُرِّيَّتِي مِنَ النَّارِ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ لاَتُخْلِفُ الْمِيعَادَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ صَدَقْتِ يَافَاطِمَةُ إِنِّي سَمَّيْتُكِ فَاطِمَةَ وَفَطَمْتُ بِكِ مَنْ أَحَبَّكِ وَتَوَلاَّكِ وَأَحَبَّ ذُرِّيَّتَكِ وَتَوَلاَّهُمْ مِنَ النَّارِ وَوَعْدِيَ الْحَقُّ وَأَنَا لاَ أُخْلِفُ الْمِيعَادَ وَإِنَّمَا أَمَرْتُ بِعَبْدِي هَذَا إِلَی‌ النَّارِ لِتَشْفَعِي فِيهِ فَأُشَفِّعَكِ لِيَتَبَيَّنَ لِمَلاَئِكَتِي وَأَنْبِيَائِي وَرُسُلِي وَأَهْلِ الْمَوْقِفِ مَوْقِفُكِ مِنِّي وَمَكَانَتُكِ عِنْدِي فَمَنْ قَرَأْتِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مُؤْمِناً فَجَذَبْتِ بِيَدِهِ وَأَدْخَلْتِهِ اَلْجَنَّةَ”، قیامت کے دن حضرت فاطمہ زہرا(س) دوزخ کے دروازہ پر کھڑی ہو جائیں گی اس دن ہرشخص کی پیشانی پر لکھا ہوگا کہ یہ مومن ہے یا کافر اس وقت حضرت فاطمہ زہرا(س) کے گناہ گاروں سے کہا جائےگا کہ تم جہنم کی طرف بڑھو حضرت فاطمہ زہرا(س) دیکھیں گی کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے "محب زہرا(س)” اس وقت حضرت فاطمہ زہرا(س) بار گاہ خدا میں عرض کریں گی خدایا! تو نے میرا نام فاطمہ رکھا اور فرمایا تیری وجہ سے تیرے محبوں اور تیری ذریت کے محبوں کو آتش جہنم سے نجات دوں گا تیرا وعدہ بر حق ہے اور تو نے کبھی بھی وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی خدا وند عالم فرمائے گا اے فاطمہ،تم سچ کہہ رہی ہو میں نے تمہارا نام فاطمہ رکھا اور جو شخص بھی تمہیں یا تمہارے فرزندوں کو دوست رکھے گا اسے آتش جہنم سے نجات دوں گا میرا وعدہ سچا ہےاور میں اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا میں نے اپنے بندہ کو جہنم کی طرف بھیجا ہے تاکہ تم اس کی شفاعت کرو اور میں تمہاری شفاعت قبول کروں تاکہ فرشتے اور انبیاء اور محشر کا ہر ایک شخص تمہارے مرتبہ کو میرے نزدیک دیکھے پس جو بھی مومن اور تمہارا محب ہو اس کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کرلو۔

١٠۔ ” سمیت فاطمة لفطمھا عن الدنیا و لذاتھا و شھواتھا” فاطمہ (س) کو فاطمہ(س) اس لئے کہتے ہیں کہ ان کو دنیا، دنیا کی لذتوں اور شہوات دنیا سے دور اور جدا رکھا ہے۔

سید نقی مہدی زیدی

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے