کتاب الغیبۃ میں شیخ محمد بن حسن طوسی نقل کرتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السّلام نے امام حسن عسکری علیہ السّلام کی شہادت کے بعد ان کی جانشینی کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلاف کے جواب میں جناب ابن ابی غانم قزوینی کو ایک توقیع (خط) لکھی جس کے ایک حصے میں یہ درج تھا کہ امام زمانہ علیہ السلام فرماتے ہیں: میرے لیے بہترین نمونہ اور کامل اسوہ جناب رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی دختر سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات اقدس ہے۔
سورۂ احزاب آیت ٢١ کی رو سے انبیاء، رسُل اور ائمہ عوام الناس کے لیے نمونۂ عمل ہوا کرتی ہیں اور اگر امام ع بذات خود کسی ہستی کو اپنے لیے نمونہ قرار دیں، یعنی وہ ہستی اس قدر با فضیلت ہے کہ خدا نے انہیں تمام انسانیت کیلئے ہادی مقرر فرمایا ہے۔
آرٹیکل کی ان سیریز میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کو بطورِ ہادی و ولی پانچ جہتوں سے بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس پہلی قسط میں ہم جس حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں وہ جہت، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفتِ الٰہی اور جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے شیعوں کی پہچان ہے۔
کتاب بحار الانوار میں نقل ہے کہ ایک دن جناب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے جناب سیدہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا: بیٹی جبرئیل خدا کی جانب سے پیغام لائے ہیں کہ خدا فرما رہا ہے فاطمہ س جو شاہیں طلب کریں، خدا انکی ہر حاجت پوری کرے گا۔
جواب میں جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے عرض کیا: بابا خدا کی بارگاہ اور خدمت میں حاصل ہونے والے لطف نے مجھے ہر حاجت سے دور کردیا ہے مگر یہ کہ اپنی معرفت میں برکت دے۔
یعنی جناب سیدہ انسانیت کو یہ سمجھانا چاہ رہی ہیں کہ اگر کسی سے کچھ طلب کرنا چاہتے ہو تو اس کے معیار کے مطابق حاجت کرو اور خدا کے مرتبہ و مقام کے مطابق سب سے بہترین حاجت اس کی معرفت ہے کہ جسے خدا کی معرفت کاملاً حاصل ہو جاتی ہے خدا بغیر کسی سوال و طلب کے اسے اتنا عطا کرتا ہے کہ ہر ایک دنیاوی و اخروی نعمت سے اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔
جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی معرفت و عبودیت کا عالم یہ تھا کہ کتاب کنز العمال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمان ذیشان نقل ہے، فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے میری بیٹی فاطمہ کے قلب و اعضاء کو ایمان اور یقین سے بھر دیا ہے، یہاں تک کہ اس کے جوڑوں تک (یعنی پورے وجود کو)۔
لیکن ہمارے نکتہ فکر یہ ہے کہ جہاں جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کو خدا کے نزدیک ایک اس قدر عظیم مقام حاصل ہے وہیں جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے شیعوں کا کیا مقام ہے اور خود جناب سیدہ س کے شیعوں کی نشانیاں کیا ہیں اور سیدہ سلام اللہ علیہا کو اپنے شیعوں سے کیا توقعات ہیں؟
تفسیر الامام حسن العسکری علیہ السلام اور کتاب بحار الانوار میں نقل ہے کہ ایک دن ایک عورت نے جناب سیدہ سلام اللہ علیہا سے شیعوں کے متعلق سوال کیا تو جواب میں جناب فاطمہ س فرماتی ہیں: اگر تم ہمارے حکم کے مطابق عمل کرو اور ہم جس سے منع کریں اس سے دور رہو تو تم ہمارے شیعہ ہو۔
کتاب بحار الانوار انوار میں ہی ایک مقام پہ نقل ہے کہ جناب سیدہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں: ہمارے شیعہ، ہمارے محبین، ہمارے محبین کے محبین اور ہمارے دشمنوں کے دشمن، سب کے سب جنتی ہیں ہمارے مقابل زبان و قلب سے تسلیم ہوں ہم جس سے منع کردیں اور کوئی اس کی حرمت نہ کرے تو ہمارا شیعہ نہیں، اگرچہ زبانی دعویدار ہو۔ ہاں مگر سب اپنے گناہوں سے پاک ہوں گے (بعد از عذاب) پھر انہیں نجات حاصل ہوگی اور پھر ہم تک (جنت) میں منتقل ہوں گے، تو اس واقع اور ان اقوال کی ذیل میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ محبین اہلبیت علیہم السّلام میں دو قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں۔
پہلا: جو زبان و قلب سے اہلبیت علیہم السّلام کے آگے تسلیم ہیں اور اپنے قول اور عملی زندگی دونوں مین اہلبیت علیہم السّلام کی سنت اور تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں۔
دوسرا: جو صرف زبانی نعروں تک محدود ہے مگر عمل میں انکا پلہ خالی ہے اور گناہگاروں کی زندگی بسر کرنا پسند کرتے ہیں۔
بالآخر ان دونوں طبقات کا خاتمہ جنت ہی ہے اور شفاعت بھی نصیب ہوگی نگر دوسرا طبقہ اپنے گناہوں کی سزا اور عذاب سے گزرنے کے بعد پاکیزہ ہو کر اہلبیت علیہم السّلام کی خدمت میں حاضر ہوگا۔
تحریر: طلال علی مہدوی







