ازدواجی زندگی میں اگر شوہر کی جانب سے بار بار گالی گلوچ اور بدزبانی کا سامنا ہو تو بیوی کو صبر و حکمت سے کام لینا چاہیے اور مثبت انداز میں صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔خاندانی مسائل کے ماہر،حجت الاسلام کرمی نے اس سلسلے میں مفید نکات بیان کیے ہیں۔
سوال:
اگر کسی عورت کا شوہر اکثر بدزبانی اور گالی گلوچ کرتا ہو، حتی کہ بیوی کو مجمع میں بے عزتی کا خوف لاحق ہو اور وہ خود اعتمادی کھو بیٹھے تو ایسی صورت میں بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب:
حجت الاسلام کرمی کے مطابق اس موقع پر شوہر کے بدتمیزی کی وجوہات پر گفتگو کرنے کے بجائے عملی طور پر بہتری کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
پہلا نکتہ: تبدیلی کا آغاز بیوی سے ہو
بیوی کو چاہیے کہ شوہر کی مثبت خصوصیات کو تلاش کرے اور انہیں زبان سے بیان کر کے نمایاں کرے۔ مثال کے طور پر اگر شوہر کو خاندان یا بچوں سے غیرت ہے تو بیوی کو چاہیے کہ اس صفت کی برملا تعریف کرے۔ کیونکہ ایسے افراد کو دوسروں کی طرف سے پذیرائی اور قریبی لوگوں کے جذباتی تعلق کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
جب شوہر یہ محسوس کرے گا کہ اس کی قدر کی جا رہی ہے تو ممکن ہے کہ اس کا رویہ آہستہ آہستہ بدلنے لگے۔ اگرچہ یہ کام بعض اوقات بیوی کے لیے مشکل ہو سکتا ہے لیکن جس طرح کڑوی دوا صحت کے لیے ضروری ہے، اسی طرح یہ تکلیف دہ مرحلہ بھی برداشت کرنا ضروری ہوگا۔
دوسرا نکتہ: صحیح انداز میں خوش طبعی اور ہنسی مذاق کو فروغ دینا
ایسے افراد عموماً خوشی کا اظہار مناسب طریقے سے نہیں کر پاتے۔ بیوی کو چاہیے کہ گھر میں خوش طبعی اور مثبت انداز میں مذاق کا ماحول پیدا کرے تاکہ شوہر بھی سیکھ سکے کہ محبت اور قریبی تعلق کا اظہار بدزبانی کے بغیر بھی ممکن ہے۔
یہ نکتہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کبھی کبھی شوہر کی توہین آمیز باتوں کا مقصد حقیقتاً توہین نہیں ہوتا بلکہ وہ محبت کے اظہار کا غلط انداز ہوتا ہے۔ صحیح ماحول فراہم کرنے سے یہ غلط فہمی دور کی جا سکتی ہے۔
تیسرا نکتہ: تحمل اور مثبت ردعمل
چونکہ ایسے افراد دوستوں کی محفلوں میں بھی اکثر بدزبانی کرتے ہیں، اس لیے ان کی اصلاح کے لیے براہ راست نصیحت یا سخت لہجہ مؤثر نہیں ہوتا۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیوی صبر و متانت کا مظاہرہ کرے اور جب شوہر کی باتوں میں کوئی مثبت پہلو ملے تو اسی کو ابھار کر سراہا جائے۔ ایسا کرنے سے شوہر کے اندر مثبت رویوں کو فروغ ملے گا اور اس کے اندرونی زخم آہستہ آہستہ بھرنے لگیں گے۔
نتیجہ:
بیوی کو چاہیے کہ شوہر کی مثبت صفات کو تلاش کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرے، گھر میں خوشی اور محبت کا صحیح ماحول بنائے، اور بدزبانی کے مقابلے میں تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرے۔ چونکہ یہ تبدیلی ایک دن میں ممکن نہیں، اس لیے صبر، حوصلے اور مستقل مزاجی کے ساتھ یہ عمل جاری رکھنا ہوگا تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ شوہر کے رویے میں بہتری آ سکے۔







