حجت الاسلام و المسلمین سید علی رضا تراشیون نے اپنی ایک تقریر میں "اخلاق؛ خاندان کے سکون کی بنیاد” کے موضوع پر خطاب کیا، جس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خاندان ایک ایسا ادارہ ہے جسے وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط کرنا اور اس کی بنیادوں کو استحکام دینا نہایت اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس طرح اپنے گھرانے کو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی، خوشحالی اور سکون کی طرف لے جا سکتے ہیں؟
اسلامی تعلیمات ہمیں کچھ ایسے اوصاف سکھاتی ہیں جو اگر گھر کے ماحول میں رائج کیے جائیں تو خاندان مضبوط اور مستحکم بن جاتا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں صفت "نیک اخلاق” ہے۔
نیک اخلاق: خاندان کا روحانی، جذباتی اور معاشرتی سہارا
اگر میاں بیوی اپنی زندگی میں نیک اخلاق کو اہمیت دیں، تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے گھرانے میں روحانی طاقت، جذباتی ہم آہنگی اور محبت بڑھے گی۔
نیک اخلاق کا مطلب کیا ہے؟ روایات میں بتایا گیا ہے کہ نیک اخلاق کی سب سے پہلی نشانی یہ ہے کہ اگر کوئی آپ سے اچھائی کرے تو اس کا جواب بھی اچھائی سے دیا جائے۔
میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے اچھے رویوں پر توجہ دیں، اور بدلے میں ویسا ہی اچھا رویہ اپنائیں۔ ایسا کرنا "ڈومینو افیکٹ” کی طرح ہوتا ہے؛ یعنی ایک نیکی دوسری نیکی کو جنم دیتی ہے، اور یوں اچھا اخلاق پورے گھر میں پھیل جاتا ہے۔
حضرت علیؑ نے مالک اشتر کے نام حکومتی فرمان میں فرمایا: "اچھے رویوں کو پہچانو تاکہ اچھائیاں پھیلیں”۔
یعنی نیکی کو پہچان کر اسے سراہنا اور اس پر نیکی سے جواب دینا خاندان میں مثبت فضا قائم کرتا ہے، جس سے برے رویے خود بخود کم ہونے لگتے ہیں۔
خوش اخلاقی قرآن و سنت کا عملی نمونہ ہے
قرآن مجید ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر کوئی تمہیں سلام کرے تو اس سے بہتر جواب دو۔ یہی اصول گھریلو زندگی میں بھی لاگو ہوتا ہے۔
اگر بیوی یا شوہر کوئی اچھا کام کرے، تو صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ اس کا جواب دیا جائے، بلکہ بہتر اور محبت بھرے انداز میں جواب دینا چاہیے۔
یہی اہل بیتؑ کی تعلیمات ہیں؛ خوش اخلاقی کو صرف عادت نہیں بلکہ عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔
غصے پر قابو اور صبر: ایک مشترکہ زندگی کا کمال
زندگی میں غلطیاں ہر ایک سے ہو سکتی ہیں۔ جب شریکِ حیات کوئی غلط بات کہے یا نامناسب رویہ اختیار کرے تو بدلے میں سختی کرنے کے بجائے صبر اور نرمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اگر بدی کا جواب بدی سے دیا جائے تو جھگڑے بڑھتے ہیں، مگر نرمی تناؤ کو ختم کرتی ہے۔
ایک شخص کا واقعہ بیان ہوا کہ جب ٹریفک میں کسی نے اس کی گاڑی کو ٹکر ماری اور تلخ کلامی شروع ہوئی، اس نے مسکرا کر معاملے کو سنبھالا، جس پر دوسرا فرد شرمندہ ہو کر معافی مانگنے لگا۔
اسی طرح ایک شوہر نے جب بیوی کے غصے اور بدتمیزی کا جواب محبت سے دیا، تو بیوی شرمندہ ہو گئی اور گھر کا ماحول بہتر ہو گیا۔
لہٰذا، قہر، چیخنا یا توہین کرنا طاقت نہیں بلکہ کمزوری ہے۔ اور جو لوگ بار بار چیختے یا غصہ کرتے ہیں، وہ خود نفسیاتی مدد کے محتاج ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا رویہ پورے گھر کے سکون کو تباہ کرتا ہے۔
صبر: نہ صرف دنیاوی، بلکہ اخروی کامیابی کی کنجی
صبر صرف خاموشی کا نام نہیں بلکہ مشکلات کو تحمل سے برداشت کرنے اور راہِ حق پر قائم رہنے کا نام ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مثال سامنے ہے، جنہوں نے کربلا جیسے سخت ترین حالات میں بھی صبر و حوصلے کی عظیم مثال قائم کی۔
روایات میں آیا ہے کہ اگر بیوی شوہر کی بدخلقی پر صبر کرے تو خداوند عالم اسے چار عظیم انعام دیتا ہے:
1. قبر کا عذاب نہیں ہوگا
2. حضرت فاطمہؑ کے ساتھ محشور ہوگی
3. ایک سال کی خالص عبادت کا ثواب ملے گا
4. ہزار شہیدوں کا اجر عطا ہوگا
یہ سب صبر کے بدلے ملتا ہے، بشرطیکہ انسان شکوہ نہ کرے بلکہ خدا کے لیے صبر کرے۔
صبر، مدارا اور نرمی: خاندان کی بقاء کا ہنر
زندگی میں سب کچھ مرضی کے مطابق نہیں ہوتا۔ بیروزگاری، گھریلو مسائل، رشتوں کی بے رخی، یہ سب آتے ہیں، مگر اصل ہنر یہ ہے کہ ان مسائل کو بحران نہ بننے دیا جائے۔
ایک شوہر نے بتایا کہ ابتدائی سالوں میں ان کے ہاں بہت مسائل تھے، مگر انہوں نے اور ان کی بیوی نے صبر کیا، اور آج وہ ایک کامیاب خاندان کی مثال ہیں۔
اہل بیتؑ نے ہمیشہ "مدارا” یعنی نرمی کو زندگی کا اصول بنایا۔ حضرت امام حسینؑ نے فرمایا کہ ہم اپنی بیویوں کے جذبات کا احترام کرتے ہیں، یہاں تک کہ سختی میں بھی نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ایک اور روایت میں امام باقرؑ فرماتے ہیں کہ وہ اندرونِ خانہ خوبصورت لباس پہنتے تھے کیونکہ ان کی بیوی کو اچھا لگتا تھا۔ یہ مدارا اور محبت کی بہترین مثال ہے۔
اچھا کلام، خوش مزاجی اور اخلاق: مرد و عورت دونوں کی ذمہ داری
روایات میں آیا ہے کہ ایک اچھے مرد کو دو چیزیں پاک ہونی چاہئیں: دل اور زبان۔
شوہر کی گفتگو ایسی ہونی چاہیے کہ بیوی سن کر خوش ہو، اور بیوی کی زبان ایسی کہ شوہر کا وقار محفوظ رہے۔
ایک شوہر نے کہا کہ وہ صرف "میں تم سے محبت کرتا ہوں” کہنا جانتا ہے، اور کچھ نہیں۔
اسے بتایا گیا کہ محبت کے اظہار میں تنوع پیدا کرو؛ اچھے الفاظ، تعریف، اور مہربان لہجہ ہی گھر کا سکون ہوتا ہے۔
آخر میں، یاد رکھیں کہ گھر کی فضا نرم، پرمحبت اور اخلاق سے بھرپور ہونی چاہیے۔ بدزبانی، سختی اور غصہ گھر کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں، جبکہ اخلاق، صبر، مدارا اور خوش مزاجی ہی خاندان کو جوڑے رکھتے ہیں۔
آج، ہماری سوسائٹی کو پہلے سے زیادہ دینی تعلیمات کی ضرورت ہے، کیونکہ جدید نفسیاتی طریقے تنہا ہمیں کامیاب زندگی نہیں دے سکتے۔
صرف جب ہم انسان کو خدا کے آئینے میں دیکھیں گے، تب ہی صبر، نرمی اور خوش اخلاقی اپنی اصل معنویت میں ہمارے گھروں میں رائج ہو سکتی ہے۔







