عصرِ عاشورا سے شامِ غریباں تک سارے خوں آشام مناظر چشمِ تاریخ نے دیکھ لیے۔ بھیانک شب اپنے دامنِ دراز کو سمیٹ چکی ہے، اور انقلابِ کربلا کی صبحِ صادق نویدِ پیروزی لے کر دہلیزِ امامت پر دستک دینے لگی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ عالمِ انسانیت کے شعور پر امامت کی شہادت دستک دے چکی، اور ضمیرِ آدمیت کو اب مزید بیدار کرنے کے لیے تشہیرِ شہادت کا فریضہ انجام دینا شروع کیا جانا تھا۔

یہ ذمہ داری ایک مسافر نے، لباسِ اسیری زیبِ تن کرکے، انجام دی۔ دنیا کو بتایا کہ یہ طوق، جو ظلم کی طرف سے پہنایا گیا ہے، حقیقت میں اربابِ حق کے گلے کا ہار ہے، جو جیت کا اعلان کرتا ہے۔ یہ ہتھکڑیاں آزادیِ ضمیر کا پیغام ہیں، یہ بیڑیاں قدموں میں ثبات کا امتحان ہیں، کیونکہ یہ "اسیر مسافر” شریعت کا ذمہ دار ہے، عصمت کا تاج دار ہے، سید الشہداء کا لختِ جگر، نورِ نظر ہے۔

اسی لیے خاموشی سے، صبر و استقامت کے ساتھ، شریعت کے چراغ جلانے کے لیے صبر و شکیبائی کو اپنا طرّۂ امتیاز بنانا ہی ہوگا۔ اپنے خونِ جگر کو چراغِ شریعت میں ڈالنا ہی پڑے گا، تبھی تو قیامت تک اندھیروں کو شکست اور اجالوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوگی۔

جب یہ قیدی زمینِ زندگی پر قدم رکھتے ہوئے بوجھل قدموں سے آگے بڑھے گا تو پاؤں کے آبلوں سے رِسنے والا لہو انسانیت کی کھیتی کو لہلہا دے گا، گلشنِ بشریت میں خوشبوؤں کا بسیرا ہوگا، اور زنجیروں کی جھنکار ہی ایوانِ سلطنت کے سکون کو برباد کر دے گی، تخت و تاج لرزنے لگیں گے۔

یہ گرانیِ طوق ہی تو ہے جو گرانیِ سماعتِ اُمت کو سننے کی صلاحیت عطا کرے گی۔ یہ بیڑیاں ہی تو آزادیِ ضمیرِ آدمی کا پیغام دیں گی۔ یہ پاؤں کے زخم پیامِ حریت کی علامت بن جائیں گے۔

بظاہر قید و بند کی تاریکی ہوگی، مگر شمعِ امامت تو انہی طوفانوں کی طغیانیوں میں بقا کی جانب رواں دواں ہوگی۔

مرض میں ہی تو فرض ادا ہوگا، بیماری ہی میں تو بیداری کا طبل بجانا پڑے گا۔ کمزوری ہی تو پیروزی کی علامت بنے گی۔ لوہے کی گرمی اور شدت ہی سے تو تشہیرِ شہادت کی عبادت ہوگی۔

صراطِ صبر پر ثباتِ قدم ہی تو انسانیت کو استقرار، استقامت اور استدامت عطا کرے گی۔ جبینِ اقدس سے جاری پسینہ ہی تو چشمۂ معرفت کے جاری ہونے کا سبب بنے گا۔ آنکھوں کی نمی ہی تو سنگلاخ وادیوں کو موم بنائے گی۔

صبر و شکر کا یہ عظیم جذبہ ہی تو اُمت میں حوصلوں کی اُڑانیں بھر دے گا۔ ایک قیدی ہی تو آزادی کا علم بردار ہوگا۔ جس کا جسم مقیّد ہو جائے، روح کی آزادی کا وہ پیغمبر بنا دیا جاتا ہے۔ ریگزارِ گرم پر جلتے ہوئے قدموں کے چھالے ہی تو زمینِ زندگی پر آنے والی نسلوں کو چلنا سکھائیں گے۔

مشقتیں ہی تو عشقِ الٰہی کا سرچشمہ بنیں گی۔

شدّتِ عطش میں ہی شربتِ شفقت پلایا جائے گا، اس لیے کہ یہ اُس کے فرزند ہیں جو ضربت کے بعد قاتل کو شربت پلاتے ہیں۔

اربابِ سیاست کی رفتار سست پڑ جائے گی، مگر رسالت کی فراست، شریعت کی ریاست کو آباد کر کے ہی دم لے گی۔

اربابِ قوت و طاقت تازیانوں کی اذیت دے سکتے ہیں، مگر عزمِ مصمّم کی اُڑان پر پہرے نہیں بٹھا سکتے۔

جسم کو زخمی تو کر سکتے ہیں، مگر ارادوں کی روح کو مضمحل نہیں کر سکتے۔

راہ میں رکاوٹیں ڈال سکتے ہیں، مگر رہبری و قیادت کی اداؤں کو نہیں روک سکتے۔

سوئے ہوئے قیدی کی زنجیر تو ہلا سکتے ہیں، مگر جب وہ سوئی ہوئی اُمت کو اپنے لہو کے چھینٹوں سے بیدار کرے گا، تو اُس پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔

جب وہ سکون سے خیمے کی چھاؤں میں نماز ادا کرے، تو اُسے ڈھکیل کر دھوپ کی شدت میں کھڑا تو کیا جا سکتا ہے، مگر اس کی مخلصانہ عبادت، منکسرانہ مزاج اور محبت بھرا رویّہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

اُس پر تشدد تو کیا جا سکتا ہے، مگر تشہیرِ شہادت کے مقصد میں ذرّہ برابر بھی رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔

اس کے سجدوں کا خلوص ہی تو ہے، اس کی عبادت کی ادائیں ہی تو ہیں، جو اُسے سیدالساجدین اور زین العابدین کے القاباتِ فاخرہ سے نوازتی ہیں، اور تاجِ کرامتِ عبدیت اس کی جبینِ اقدس کا بوسہ لینے کو بے قرار رہتی ہے۔

درد و الم میں ڈوبی ہوئی تصویر حقیقت بن سکتی ہے، مگر یہ وہ عظیم ذات ہے کہ جس کے قدموں سے لپٹی ہوئی بیڑیاں خود گریا کناں ہوں۔

ظالم بیڑیاں اُنہیں پہنانے اور کھولنے کے لیے جھکتا ہے، اور جھک کر یہ اعلان کرتا ہے کہ ہمیں امامت کو اسیر کرنے کے لیے ان کے قدموں میں جھکنا ہی پڑتا ہے۔

اور جو ان کے کٹ ہوئے سر کو جھکانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہی نیزوں کی بلندیوں پر اُس سر کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔

یہ علامت ہے کہ ظالم کبھی قدموں میں جھکتا ہے، کبھی ہمارا سر اُٹھا کر لے جاتا ہے۔

یہ سیدالساجدینؑ کی جیت ہے کہ دشمن دو بار ان کی قدم بوسی کرتا ہے؛ بیڑیاں پہناتے ہوئے اور بیڑیاں اتارتے ہوئے۔

وہ عظیم قیدی، وہ اسیر مسافر، جس نے صبر کا کل سرمایہ سمیٹ کر اپنی آنکھوں میں سرمہ بنا کر اس طرح لگا لیا کہ سارے غموں کے آنسوؤں کو پی گیا، مگر شریعت کے جسم سے لہو کو سوکھنے نہ دیا۔

مقصد کی ترجمانی میں سب کچھ برداشت کیا، مگر لب و لہجے سے پیغامِ امن و اماں، بقائے انسانیت، شرافتِ آدمیت، اطاعتِ خدا و رسول، شجاعتِ شہدائے کربلا، اور حکمتِ اسیرانِ کربلا کو واضح کرتا رہا۔

ریگزارِ گرم کے ذروں کو پاؤں تلے کچلتا ہوا اپنے مقصد کی جانب گامزن رہا۔

اُس کے لہجے کی دھمک نے ایوانِ سلطنت کی دیواروں میں دراڑیں ڈال دیں۔ اُس کے صبر نے جبر کے جبڑے ہلا دیے۔

اُس کے حوصلے نے یزیدیت کو کچھ حاصل نہ ہونے دیا۔ وہ سب کچھ لوٹ کر بھی ہار گئے، اور یہ سب کچھ لٹا کر بھی جیت گئے۔

ایک اسیر مسافر صراطِ صبر پر، کربلا سے شام تک شہادت کی تشہیر کرتا ہوا، سفرِ عشقِ کربلا کو روانی دیتا گیا۔ کتابِ حکمت کو جوانی دیتا گیا۔

اسیر اور مسافر ہوتے ہوئے، یتیموں کی کفالت کرتا رہا، بیواؤں کی حفاظت کرتا رہا، مقصد کی ترجمانی کرتا رہا، ظلم کو پانی پانی کرتا رہا۔ پیاس کی شدت میں رہا، مگر سوکھے لبوں سے شکرِ رب بجا لاتا رہا۔

شکوہ اُس کی طینت میں تھا ہی نہیں، اُس کے لبوں پر آیا ہی نہیں، اُس کے احساس میں بسا ہی نہیں، اُس کے شعور میں رچا ہی نہیں۔

بلکہ جو چیز رچی بسی تھی، وہ لفظ "شکر” بتمام معنی تھا۔ وہ مکمل "حرفِ شکر” کے وجود میں ڈھلا ہوا ایک عظیم مسافر تھا، جس کی ذمہ داری شریعت کی پاسبانی، دین کی نگہبانی، اور حکمتِ امامت کی مکمل دیکھ بھال تھی۔

رب کریم ہمیں سیرت امام علیہ السلام کا چلنے کی توفیق عنایت اور ہمیشہ ہمیں صراط صبر پر قائم و دائم رکھے!

تحریر: مولانا گلزار جعفری

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے