اسلامی جمہوریہ ایران کی کس طرح مدد کی جائے؟

 

اس وقت عالمِ اسلام، بالخصوص مرکزِ مزاحمت یعنی اسلامی جمہوریہ ایران اور حزب اللہ، استکباری قوتوں کے مقابل برسرِ پیکار ہیں۔ اس نازک صورتِ حال میں ہر فرد اپنی استطاعت اور امکانات کے مطابق اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

🔹جو افراد بین الاقوامی یا ملکی سطح پر مؤثر ہیں، وہ اپنے دائرۂ اثر میں،

🔹 اور جو صوبائی، شہری یا محلہ سطح پر فعال ہیں، وہ اپنے اپنے ماحول میں حق، عدالت اور مظلوموں کے دفاع کے لیے جو کچھ ممکن ہو، انجام دیں۔

 

 یہ مدد مختلف صورتوں میں ممکن ہے:

1️⃣جن کے ہاتھ میں قلم ہے، وہ اپنے قلم کے ذریعے حقائق، مظلومیت اور امریکہ و اسرائیل کے مظالم کو اجاگر کریں، روشنگری کریں اور مقاومتی محاذ کی حمایت میں لکھیں۔

2️⃣جن کے پاس اظہارِ خیال کا موقع ہے، وہ میڈیا، منبر اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے انہی حقائق کو بیان کریں۔

3️⃣مساجد، مدارس، امام بارگاہوں، تنظیموں اور دیگر مراکز کے ذریعے حق کا پیغام عام کیا جائے۔

4️⃣صاحبِ استطاعت افراد اپنی مالی حیثیت کے مطابق امداد فراہم کریں۔

5️⃣باشعور علما اور دانشور اپنے اپنے علاقوں میں مختلف مکاتبِ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطہ کر کے مشترکہ اجتماعات منعقد کریں اور عوامی رائے کو ہموار کریں۔

6️⃣ عوام میں شعور کی بیداری کے لیے رہبرِ شہید، دیگر شہداء اور رہنماؤں کی شخصیت، افکار اور اعلیٰ اہداف کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے، اور رہبر کے افکار و آثار پر خصوصی توجہ دی جائے۔

اس وقت علما کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، کیونکہ عوام میں رہبرِ شہید اور دیگر شہداء کی قربانیوں نے ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کیا ہے۔

▪️ اس جذبے کو درست سمت دینا،

▪️اختلافات کا خاتمہ کرنا،

عوامی احساسات کو دین،مکتب اور اتحادِ امت کے لیے بروئے کار لانا،

▪️دشمن کی شناخت اور عوام میں حقیقی دشمنوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور ساتھ ہی عالم اسلام کے خلاف ان کی سازشوں سے آگاہ رکھنا،

▪️میڈیا اور مختلف پلیٹ فارم پر منافرت اور اختلاف کی حوصلہ شکنی اور بھائی چارگی کا پیغام اور معاشرہ میں مزاحمتی بلاک کی حمایت وہ تمام اقدامات ہیں کرسکتے ہیں۔

 

 اس مقصد کے لیے:

🔹اسلام و مسلمین کی کامیابی کے لیے دعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا جائے۔

🔹میڈیا پر رہبر اور دیگر شہداء نیز مزاحمتی کامیابیوں سے متعلق مثبت مواد نشر کیا جائے۔

🔹رہبرِ شہید کے افکار کی نشر و اشاعت کو ایک اہم فریضہ سمجھا جائے۔

🔹نئے رہبر کی معرفت، ان سے تجدیدِ عہد اور اطاعت کے عزم کو فروغ دیا جائے۔

🔹نئی نسل اور نوجوانوں کے لیے علما، فقہا اور شہداء کو عملی نمونہ بنا کر پیش کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کے ساتھ کھڑے ہونے اور اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے